سرینگر//
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ملک بھر کے ٹور آپریٹرز کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس میں جموں و کشمیر کے سیاحت کے منفرد تجربات کو اجاگر کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے ٹور آپریٹرز کو خطے کے فروغ میں تعاون فراہم کرنے کی دعوت دی۔
یہ جانکاری وزیر اعلیٰ کے دفتر کے’ایکس‘ہینڈل پر ایک پوسٹ کے ذریعے فراہم کی گئی ۔انہوں نے کہا’’وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز ملک بھر کے ٹور آپریٹرز کے ساتھ خصوصی بات چیت کی جس میں جموں و کشمیر کے سیاحت کے منفرد تجربات کو اجاگر کیا گیا‘‘۔
پوسٹ میں مزید کہا گیا’’انہوں نے انہیں خطے کے فروغ میں تعاون کی دعوت دی اور حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔‘‘
تقریباً ۸۰دن کے طویل جمود کے بعد، کشمیر کے خوبصورت مغل باغات اور معروف سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی واپسی نے نئی جان ڈال دی ہے ۔
نشاط باغ، شالیمار، ہارون، چشمہ شاہی اور دیگر مشہور باغات میں ایک بار پھر رونق اور چہل پہل دکھائی دینے لگی ہے ۔
محکمہ باغبانی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتے سے مغل باغات میں مقامی اور غیر مقامی سیلانیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سیاحوں کو بہترسہولیات فراہم کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں۔
ڈل جھیل کے کنارے شکارا چلانے والے ریاض احمد نے کہا’’ہم نے کئی ہفتے انتظار میں گزارے ، امیدیں دم توڑ چکی تھیں۔ لیکن اب حالات بدل رہے ہیں، لوگ آ رہے ہیں، ہنسی خوشی کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ فی الحال رش کم ہے ، لیکن ہمیں امید ہے کہ جلد ہی یہ مکمل بحالی میں تبدیل ہوگا‘‘۔
وادی کشمیر کے دورے پر آئی سیاح نیشا دیوی نے کہا ہے کہ کشمیر واقعی ایک حسین اور جنت نظیر مقام ہے ، جہاں کی قدرتی خوبصورتی اور عوام کی مہمان نوازی دل کو چھو لینے والی ہے ۔
سرینگر کے ایک سیاحتی مقام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نیشا دیوی نے کہا’’کشمیر آ کر دلی خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ یہاں کا ماحول، فضا، پہاڑ، جھیلیں اور سبزہ زار دلکش ہیں۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہاں کے لوگ بے حد محبت کرنے والے اور مہمان نواز ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں کشمیر میں کبھی بھی خوف یا غیر محفوظ ہونے کا احساس نہیں ہوا بلکہ انہوں نے خود کو ہر لمحہ محفوظ اور خوش آمدید محسوس کیا۔










