نہیں صاحب ایسا نہیں ہے کہ ہم جنگ کی سنگینی کو نہیں سمجھتے ہیں … ایسا بالکل بھی نہیںہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جنگ ، جنگ ہے‘ بچوں کا کوئی کھیل نہیں ہے… اور گزشتہ ۱۲ دنوں کے دوران اسرائیل اور ایران میں جو کچھ بھی ہوا وہ بچوں کا کھیل نہیں تھا… بالکل بھی نہیں تھا … وہ جنگ تھی‘ حقیقی معنوں میں جنگ… کچھ اور نہیں ۔ لیکن ایک بات جو ہم سمجھ نہیں رہے ہیں وہ یہ ہے کہ آخر اس جنگ ‘ اس تباہی سے حاصل کیا ہوا ؟ کس کو کیا ملا ‘ کچھ ملا بھی یا نہیں … اسرائیل نے ایران پر جنگ مسلط کر دی تاکہ وہ اس کے جوہری ہتھیاروں کو ختم کر دے… امریکہ اور اسرائیل دونوں نے کہا… اعلاناً کہا کہ سب کچھ منظور ہے‘ لیکن ایران کا جوہری قوت بننا ‘ اس کے پاس جوہری ہتھیار ہونا منظور نہیں ہے… بالکل بھی نہیں ہے … اور اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ٹرمپ صاحب نے ایران کی کچھ جوہری تنصیبات پر دنیا کے طاقتور ترین غیر جوہری بم گرادئے … یہ اس بمباری کے علاوہ تھے جو اسرائیل نے ایران کی ان جوہری تنصیبات پر کی… لیکن کیا اسرائیل اور امریکہ اس میں کامیاب رہے… اس میں کامیاب رہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار نہ بنا سکے؟ ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ دونوں ممالک یقینا ایسا دعویٰ نہیں کر سکتے ہیں اور… اور اس لئے نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ کہا جارہا ہے کہ امریکی حملوں سے پہلے ہی ایران ۴۰۰ کلو نیم افزودہ یورینیم کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا تھا …یہ بات ‘ یہ دعویٰ کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا نہیں کررہا ہے… بلکہ ٹرمپ صاحب کے نائب ‘جے ڈی وینس کررہے ہیں جن کاکہنا ہے کہ… کہ یو رینیم کی اتنی مقدار سے کم از کم دس… جی ہاں دس جوہری ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں ۔اور صاحب یہی بات ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ اگر جنگ کے بعد بھی ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے تو…تو پھر اس پر جنگ مسلط کیوں کی گئی … اتنی تباہی کیوں مچا دی گئی … کیا صرف اس لئے کہ اسرائیلی وزیر اعظم ‘ نیتن یاہو اپنے ذاتی سیاسی عزائم کی تکمیل کو ممکن بنا سکیں…یعنی اپنی سیاسی دکان کو چمکانے کیلئے آپ کسی دوسرے آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ کر سکتے ہیں اور… اور اس میںسپر پاور امریکہ کو بھی گھسیٹ سکتے ہیں…یہ واقعی جنگ تھی یا پھر نیتن یاہو کا کوئی سیاسی کھیل… ہے نا؟




