جموں//
ایک معطل سرکاری اسکول ٹیچر، جسے گزشتہ ہفتے نوکری کے خواہشمندوں کو دھوکہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، کو سنیچر کو۱۵ دنوں کی عدالتی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ کرائم برانچ کے ایک اہلکار نے یہ معلومات دیں۔
اہلکار کے مطابقجمیل انجم‘ جو اْستاد محلہ کا رہائشی ہے، کو ۲۳ مئی کو گرفتار کیا گیا تھا اور اسے مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اسے۱۵ دن کی عدالتی ریمانڈپر بھیج دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ انجم کی گرفتاری گجر نگر کے راشد منہاس کی ایک نئی شکایت پر عمل میں آئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انجم نے اسے اور اس کی بہن کو سرکاری نوکری دلوانے کے بہانے ۱۰ لاکھ روپے نقد اور۵ لاکھ روپے کے سونے کے زیورات سے دھوکہ دیا۔
اہلکار کے مطابق، ملزم نے شکایت کنندہ کو جعلی تقرری آرڈر فراہم کیے اور اسے یقین دلایا کہ مختلف سرکاری محکموں میں کچھ خالی پوزیشنز ایسے تعلیم یافتہ امیدواروں سے بھری جائیں گی جن کا سرکاری خدمات میں کوئی نہیں ہے اور جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔
کرائم جموں کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی)، بینم ٹوش نے شکایت موصول ہونے کے بعد گہری چھان بین کے لیے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی۔
اہلکار نے بتایا کہ انجم ایک عادتی دھوکے باز ہے اور مسلسل فراڈ میں ملوث ہونے کی وجہ سے اس وقت معطل ہے۔ ان کے خلاف کرائم برانچ اور ضلعی پولیس جموں میں کل ۱۰ ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے ۴ مقدمات میں چارج شیٹ دائر کی جا چکی ہے۔










