سرینگر//
پی ڈی پی لیڈر التجا مفتی کا الزام ہے کہ کولگام‘جہاں دو لاپتہ نوجوانوں کی لاشیں بر آمد ہوئی ہیں، جانے سے روکنے کیلئے ان کے گھر کے دروازے بند کر دئے گئے ۔
التجا نے کہا’’من مانی ایسی ہے کہ ہمیں اطلاع دینے کو بھی مناسب نہیں سمجھا گیا‘‘۔
پی ڈی پی لیڈرنے پیر کو’ایکس‘پر ایک پوسٹ میں کہا’’ایک بار پھر ہمارے گھر کے دروازے بند کر دئے گئے ہیں، من مانی ایسی ہے کہ ہمیں اطلاع دینے کو بھی مناسب نہیں سمجھا گیا‘‘۔
التجا نے پوسٹ میں مزید کہا’’میں کولگام جانا چاہتی تھی جہاں دو نوجوانوں کی لاشیں بر آمد کی گئی ہیں جو پر اسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے ، حکام کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
واضح رہے کہ کولگام میں گذشتہ ماہ ریاض احمد بجاڈ، اس کا چھوٹا بھائی شوکت احمد بجاڈ اور تیسرا شخص مختار احمد لاپتہ ہو گئے تھے ۔ ان میں سے دو بھائیوں کی لاشیں ویشو نالے سے بر آمد کی گئیں جبکہ تیسرے لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے ۔
اس واقعے پر کولگام میں لواحیقن اور مقامی لوگوں نے اتوار کے روز احتجاج درج کیا۔
ادھرپی ڈی پی کے سینئر لیڈ ر اور ممبر اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے پیر کے روز کہاکہ کٹھوعہ اور کولگام میں شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے حکومت کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہئے ۔
پرہ نے کہاکہ شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد لوگوں میں ڈر اورخوف کا ماحول قائم ہوا ہے ۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے اسمبلی کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
پرہ نے کہاکہ کٹھوعہ میں شہری ہلاکتوں کے بعد کولگام میں تین لاپتہ افراد میں سے دو کی لاشیں برآمد کی گئیں ہیں۔
پی ڈی پی لیڈر کے مطابق ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا جارہا ہے لہذا سرکار کو تحقیقات کے ذریعے سب کچھ سامنے لانا چاہئے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کٹھوعہ واقعے کے بعد کولگام میں دو افراد کی لاشیں برآمد ہونے کے بعد لوگوں میں ڈر اور خوف کا ماحول ہے ۔
پرہ کے مطابق لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں خاص کر گوجر بکروال طبقے کے لوگ اب اوپری پہاڑی علاقوں میں جانے سے خوف محسوس کر رہے ہیں۔










