جمعرات, اکتوبر 29, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home سچ تو یہ ہے

دین اور مسجد

ہارون رشید شاہ by ہارون رشید شاہ
2025-03-16
in سچ تو یہ ہے
A A
سازش۔۔۔۔۔۔۔؟
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

ہمیں ریاستی درجہ نہیں چاہئے

فاروق صاحب اور پاکستان

آج رمضان المبارک کا۱۵واں دن ہے اور فی الحال مساجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں‘آباد ہیں ۔ لوگ ہول سیل میں نمازیں بھی ادا کررہے ہیں اور مساجد میں جا رہے ہیں ۔ جو لوگ اللہ میاں کے گھر میں باقی گیارہ مہینوں میں بھی حاضر رہتے ہیں وہ بے چارے رمضان المبارک میں اللہ میاںکے گھر میں اجنبی بن جاتے ہیں ‘اکثریت سے یہ یک دم اقلیت میں آجاتے ہیں اور کوئی انہیں پوچھتا تک نہیںہے ۔ پہلی صف میں جگہ ملنا تو دور کی بات ہے دوسری اور تیسری بھی انہیں نصیب نہیںہوتی ۔ ہم خوش ہوتے ہیں کہ کم از کم اس ایک ماہ کیلئے ہم اللہ میاں کا گھر آباد تو کرتے ہیں ۔ ہم اسے ایک بڑی عبادت سمجھتے ہیں ‘عبادت ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ مساجد میں با جماعت نماز ادا کرکے ہم نے رمضان المبارک کی حق ادائیگی کی ۔ لیکن اللہ میاں کی قسم ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ دین مسجد میں ہی نہیں مسجد کے باہر بھی ہے ۔اور ہم ہیں کہ اس کا بالکل الٹا کرتے ہیں … مسجد سے باہر تو ہم نکلتے ہیں لیکن دین مسجد میں ہی چھوڑ جاتے ہیں … اللہ میاں کی حفاظت میں ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم مسجد سے باہر نکلتے وقت دین کو بھی اپنے ساتھ لے آتے تاکہ ضرورت پڑنے پر ہم اس کی طرف رجوع کرتے …اپنے تمام معاملات اسی کی رہنمائی میں نمٹاتے ۔ لیکن بھیا یہ تھوڑا مشکل کام ہے …اور اس مشکل کام کیلئے آپ تیار ہیں اور نہ ہم …اس لئے مسجد سے باہر ہم اکیلے ہی نکل آتے ہیں اور دین کو مسجد میں چھوڑ جاتے ہیں ۔مسجد سے باہر آتے وقت ہم بڑے مطمئن ہوتے ہیں کہ آج ہم نے با جماعت نماز ادا کی …اور جب اس نماز کو اچھائی اور برائی میں ایک دیوار کی طرح حائل کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم اس دیوار کو خود ہی منہدم کرتے ہیں …اس لئے منہدم کرتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ دین مسجد کی چار دیواری کے اندر ہے … اسے مسجد کی چار دیواری کے اندر ہی اپنانا ہے ‘باہر جاکے نہیں … مسجد سے باہر نکلتے ہی ہم اس کو ٹاٹا بائی بائی کہتے ہیں ۔ہے نا ؟

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

وادی کشمیر میں ہفتہ کے روز تازہ برفباری

Next Post

بجلی فیس کی عدم ادائیگی اور سرکاری دفاتر:خیرات گھر سے شروع ہو تی ہے

ہارون رشید شاہ

ہارون رشید شاہ

Related Posts

کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

ہمیں ریاستی درجہ نہیں چاہئے

2026-10-28
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

فاروق صاحب اور پاکستان

2026-10-27
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

وزیر اعلیٰ صاحب بزدل نہیں !

2026-10-25
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

کوشش!

2026-10-24
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

ڈرگس….گولی سے زیادہ تباہ کن

2026-10-23
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

اسے کہتے ہیں وفاداری !

2026-10-22
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

ہم بھی سیاستدان ہوتے!

2026-10-20
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ
سچ تو یہ ہے

دو سال گزر گئے

2026-10-17
Next Post
آگ سے متاثرین کی امداد

بجلی فیس کی عدم ادائیگی اور سرکاری دفاتر:خیرات گھر سے شروع ہو تی ہے

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.