جموں//
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق حمید قرہ نے جمعہ کو وزیر اعلی عمر عبداللہ کی طرف سے پیش کردہ جموں و کشمیر بجٹ کو’عوام دوست‘اور ’مثبت‘ قرار دیا، لیکن کہا کہ ممکنہ خلا کی نشاندہی کرنے کیلئے ایک تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بجٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قرہ نے کہا کہ غریب ترین خاندانوں کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے تمام بڑے سماجی شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔
کانگریسی لیڈر نے کہا کہ ہم نے اب تک جو کچھ سنا ہے اس سے لگتا ہے کہ بجٹ عوام کے حق میں ہے۔ اس میں بہت زیادہ مثبت یت ہے، اور تقریبا تمام سماجی شعبوں پر توجہ دی گئی ہے۔
تاہم انہوں نے مکمل جائزے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے حتمی بیان دینے سے گریز کیا۔ انہوں نے مزید کہا’’بجٹ کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی ہم خلا کا اندازہ لگا سکتے ہیں اور کیا ان کو مناسب طریقے سے دور کیا گیا ہے‘‘۔
قرہ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ کانگریس کو فوری طور پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن وہ عمل درآمد کے طریقہ کار کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا’’اب دیکھتے ہیں کہ اس میں کیا طریقہ کار طے کیا جاتا ہے، ہمیں پتہ چل جائے گا‘‘۔
صرف اے اے وائی کنبوں کو ۲۰۰ یونٹ مفت بجلی دینے کے اعلان کے جواب میں قرہ نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بھی صرف غریب کنبوں کیلئے ہی یہ تجویز پیش کی تھی۔
جب جے کے پی سی سی کے سربراہ سے ان کے مجموعی تاثر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے پرامید موقف برقرار رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر بجٹ مثبت دکھائی دیتا ہے۔










