جموں//
نیشنل کانفرنس کے صدر‘ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ عوامی حکومت جموںکشمیر میں نہ صرف تعمیر و ترقی کو فروغ دیگی بلکہ عوام کے درمیان اتحاد اور آپسی ہم آہنگی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کرے گی۔
ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ انتخابات سے قبل پارٹی نے جو منشور جاری کیا تھا، حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ تمام وعدوں کو پورا کیا جائے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ریاستی درجے کی بحالی کے ساتھ ہی حکومت موثر طریقے سے عوامی راحت کے کام کر پائے گی۔
ان باتوں کا اظہار ڈاکٹر فاروق نے جموں میں پارٹی لیڈران، عہدیداروں اور کارکنوں کے ایک اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
این سی صدر نے کہا کہ بی جے پی نے جموں کے عوام کا صرف استحصال کیا اور اپنے حقیر سیاسی مفادات کیلئے مذہبی بنیادوں پر یہاں کے عوام سے ووٹ حاصل کئے اور تعمیر و ترقی کے لحاظ سے اس خطے کو یکسر نظر انداز کیا۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ دربار مو نہ صرف کشمیر اور جموں کے لوگوں میں آپسی ہم آہنگی کا باعث تھا بلکہ جموں کی معیشت کیلئے ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا تھا لیکن۲۰۲۱میں لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ نے اسے روک دیا تھا، نو منتخبہ عوامی حکومت نے جزوی طور پر دربار مو کی بحال کردی ہے اور اُمید ہے کہ اگلے سال دربار ماضی کی طرح مکمل طور پر بحال ہوگا۔
حکمران جماعت کے صدر کا کہنا تھا کہ جموں کشمیر ایک متنوع ثقافت والا خطہ ہے ، اور دربار موو کا قیام تنوع میں اتحاد کو فروغ دینے کیلئے کیا گیا تھا۔ان کاکہنا تھا’’ اس روایتی سالانہ اقدام کا بنیادی مقصد نہ صرف دو خطوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا بلکہ تجارت اور سماجی تعلقات میں اضافہ کرنا بھی تھا‘‘۔
ڈاکٹر فاروق نے کہاکہ دربار کی بحالی بھاجپا کو راس نہیں آتی ہے کیونکہ یہ جماعت تقسیم در تقسیم میں یقین رکھتی ہے ۔ لیکن نیشنل کانفرنس حکومت خطوں اور عوام میں دوریاں ختم کرکے ہی دم لے لی۔
این سی صد نے کہا کہ صوبہ جموں میں سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے ، غیر معقول بجلی اور پانی کی فراہمی، بے روزگاری ، ٹول پلازے ، جاب آؤٹ سورسنگ اور کان کنی کی سرگرمیوں مقامی آبادی کے تئیں بی جے پی کی بے حسی کی واضح مثالیں ہیں۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جموں کشمیر پر ۲۰۲۴سے۲۰۲۴تک بی جے پی نے براہ راست حکومت لیکن صرف لوگوں کو صرف زبانی جمع خرچ سے ہی بہلایا اور پھسلایا گیا اور عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا گیا۔
ان کاکہنا تھا’’بی جے پی نے خطہ پیرپنچال اور خطہ چناب کے لوگوں کیساتھ ناروا سلوک روا رکھا اور جموں کی آبادی کا استحصال کیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ تمام خطوں تک تعمیر و ترقی کے ثمرات پہنچانے کیلئے امن وامان، اتحاد اور ہم آہنگی کی اشدضرورت ہے ۔










