جموں//
بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے نگروٹا دیویندر سنگھ رانا کی جمعہ کو شاستری نگر شمشان گھاٹ جموں میں آخری رسومات ادا کی گئیں۔
رانا کا جمعرات کی رات کو دہلی کے ایک ہسپتال میں مختصر علالت کے بعد ۵۹ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا ۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ ، نائب وزیر اعلی سریندر چودھری ، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت ، جموں و کشمیر بی جے پی صدر رویندر رینا ، بی جے پی رکن پارلیمنٹ جوگل کشور شرما ، کابینی وزیر ستیش شرما اور سینئر سول اور پولیس افسران سمیت سیکڑوں افراد نے جموں شہر کے شاستری نگر شمشان گھاٹ میں آخری رسومات میں شرکت کی۔
جمعہ کی سہ پہر رانا کی میت جموں کے گاندھی نگر میں واقع ان کے گھر پہنچی، جہاں پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں اور ان کے بھائی مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ سمیت ہزاروں افراد نے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ گھر سے دوپہر کو پھولوں سے سجی گاڑی میں میت کو جلوس کے ساتھ شمشان گھاٹ لے جایا گیا۔
اس موقع پر ’دیویندر سنگھ رانا امر رہے امر رہے‘ کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔جموں کے شاستری نگر شمشان گھاٹ میں دیویندر سنگھ رانا کی میت کو آگ کے شعلوں کی نذر کیا گیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد موجود رہی۔ غور طلب ہے کہ آخری رسومات ان کے بیٹے نے ادا کی، جس نے جذباتی ماحول میں چتا کو جلایا۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے جمعہ کو جموں میں دیویندر سنگھ رانا کی رہائش گاہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری نے رانا کی بے وقت موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا جموں سوگ میں ہے کیونکہ وہ جموں کی آواز تھے۔
چودھری نے آنجہانی دیویندر سنگھ رانا کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’جموں و کشمیر نے اپنے بڑے لیڈر کو کھو دیا ہے، جو خاص طور پر جموں کی آواز تھے۔ آج ہمارے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ اس لیڈر کے لیے تعزیت کا اظہار کریں جس کے ساتھ میرا بہت قریبی تعلق تھا‘‘۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس موقع پر میڈیا سے بات نہیں کی اور تعزیت کے بعد رانا کی رہائش گاہ سے روانہ ہو گئے۔ دیویندر سنگھ رانا کی گاندھی نگر رہائش گاہ سے آخری رسومات کے دوران سیاست دانوں، سماجی کارکنوں اور عام لوگوں سمیت ایک بڑی تعداد موجود تھی۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے ممتاز رہنما رانا، جو اپنے گہرے سیاسی اثر و رسوخ کیلئے جانے جاتے تھے۔ اچانک انتقال کر گئے، جس سے پارٹی اور ان کے حامیوں کو گہرا صدمہ پہنچا۔
۵۹ سالہ سیاست دان حال ہی میں جموں کشمیر کی نگروٹا اسمبلی سیٹ پر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
جیسے ہی بی جے پی لیڈر رانا کے اچانک انتقال کی خبر ملی ان کے ساتھی، دوست اور حامی جموں میں ان کی گاندھی نگر رہائش گاہ پر ان کے غمزدہ خاندان سے تعزیت کے لیے جمع ہوئے۔ وہ۵۹ سال کے تھے اور ان کے پسماندگان میں ان کی اہلیہ، دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
دیویندر سنگھ رانا کا تعلق بنیادی طور پر ضلع ڈوڈا سے ہے اور وہ گاندھی نگر، جموں میں آباد تھے۔ وہ سینئر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر جتیندر سنگھ کے بھائی تھے۔ ملک بھر میں پارٹی رہنما اور اراکین تعزیت کا اظہار کر رہے ہیں۔
جم کیش وہیکلیڈز کے بانی رانا نے سال ۲۰۲۱میں اس وقت سرخیوں میں جگہ بنائی تھی جب انہوں نے پارٹی کے ساتھ۲دہائیاں گزارنے کے بعد نیشنل کانفرنس سے اپنے تعلقات ختم کیے اور بعد میں بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
رانا، جو ایک تاجر سے سیاست دان بنے ہیں، نے حال ہی میں اپنی نگروٹا اسمبلی سیٹ دوسری مدت کے لیے جیتی، اور اپنے قریبی نیشنل کانفرنس کے حریف جوگندر سنگھ پر سب سے زیادہ۳۰ہزار۴۷۲ ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے یہ سیٹ۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات میں این سی کے ٹکٹ پر جیتی تھی۔
جموں و کشمیر کے وزیر اعلی کے طور پر عبداللہ کے دور میں ان کے قریبی ساتھی، رانا نے پارٹی کے ساتھ دو دہائیوں تک رہنے کے بعد اکتوبر۲۰۲۱میں این سی سے استعفیٰ دے دیا۔ اس کے بعد انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی، جہاں جموں ڈویڑن میں ان کے مضبوط روابط اور مقامی کمیونٹیز کے ساتھ تعلقات کے لیے انہیں جانا جاتا تھا۔
دیویندر سنگھ رانا خطے کے سیاسی منظر نامے میں خاص طور پر بی جے پی کے اندر ایک نمایاں شخصیت تھے۔
وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امیت شاہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور محبوبہ مفتی سمیت تمام سیاسی حلقوں کے سیاست دانوں نے رانا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔