جموں/ 28 اکتوبر
جموں کشمیر پولیس نے جموں ضلع کے اکھنور علاقے میں جاری آپریشن میں اب تک کسی دہشت گرد یا کسی فوجی اہلکار کے زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔
جموں پولیس نے کہا کہ ہم اکھنور میں جھڑپ سے متعلق خبروں کی تردید کرتے ہیں جس میں تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔
پولیس ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ فوج کی گاڑی پر حملے میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے اور مزید تفصیلات کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔
صورتحال قابو میں ہے اور ہم عوام پر زور دیتے ہیں کہ وہ پرسکون رہیں اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانے سے گریز کریں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز سرحدی اضلاع کے لئے حالیہ الرٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اکھنور کے سندر بنی سیکٹر میں بٹل کری جوگون علاقے میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نزدیک پیر کی صبح ملی ٹنٹوں نے ایک فوجی ایمبولینس پر فائرنگ کی جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے ۔
پولیس نے بتایا” اکھنور کے سندربنی سیکٹر کے کھوور علاقے میں آسن مندر میں بٹل کے قریب تین دہشت گردوں کو دیکھا گیا ہے “۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے آرمی ایمبولینس پر کچھ را¶نڈ فائرنگ کئے جس کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا اور پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا۔
ان کا کہنا تھا”دہشت گردوں نے تلاشی ٹیم پر فائرنگ کی جس پر جوابی کارروائی کی گئی اور فائرنگ شروع ہو گئی“۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ میں اپنی طرف سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے جبکہ محاصرہ کیا گیا ہے اور آپریشن جاری ہے ۔
دریں اثنا فوج کی وائٹ نائٹ کور نے’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا”سندر بنی سیکٹر کے اسن علاقے کے نزدیک آج صبح دہشت گردوں نے فوجی گاڑیوں پر فائرنگ کی“۔
انہوں نے کہا”جوانوں کی فوری جوابی کارروائی اس کوشش کو ناکام بنا کر کوئی جانی نقصان نہ ہونے کو یقینی بنایا“۔
ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں تلاشی آپریشن جاری ہے ۔










