سرینگر//
پی ڈی پی نے جمعرات کو جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں کامیابی کے بعد نیشنل کانفرنس اور سی پی آئی (ایم) پر غنڈہ گردی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے یہاں پارٹی ہیڈ کوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس (این سی) کی جیت اور پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کو قانون ساز پارٹی کا لیڈر منتخب ہونے پر مبارکباد دی لیکن سوال کیا کہ کیا بھاری اکثریت غنڈہ گردی اور املاک کو نقصان پہنچانے کیلئے ہے۔
التجا کاکہنا تھا’’سری گفوارہ بجبہاڑہ (بشیر ویری) سے نیشنل کانفرنس کے منتخب ایم ایل اے غنڈہ گردی میں ملوث ہیں۔ ان کے کارکن پی ڈی پی کارکنوں کے گھروں کی بیرونی دیواروں کو تباہ کر رہے ہیں، پی ڈی پی کارکن کی ایک گئوشالہ کو بھی نذر آتش کیا گیا۔ میں عمر عبداللہ سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا انہیں جو بھاری اکثریت ملی ہے وہ اس کے لئے تھی‘‘۔
التجا مفتی حال ہی میں ہوئے جموں و کشمیر اسمبلی انتخابات میں ویری سے انتخابی نشست ہار گئیں۔
پی دی پی لیڈر نے الزام لگایا کہ نیشنل کانفرنس کارکن پی ڈی پی کی خواتین کارکنوں کو ہراساں کر رہے ہیں اور ان کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا’’اگر وہ مجھے یا محبوبہ مفتی کو گالیاں دیتے ہیں تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن ہمارے کارکنوں کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ اس کے بعد ہم کارروائی کریں گے‘‘۔
التجا مفتی نے کہا کہ وہ بجبہاڑہ کے لوگوں کے بارے میں فکرمند ہیں کیونکہ انہوں نے غلط ایم ایل اے کو منتخب کیا ہے۔
پی ڈی پی لیڈر نے کہا’’صرف بجبہاڑہ میں ہی نہیں، نیشنل کانفرنس دمحال ہانجی پورہ حلقہ میں بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کر رہی ہے۔ سی پی آئی (ایم) کولگام میں بھی جماعت اسلامی کے خلاف ایسا کر رہی ہے۔ نیشنل کانفرنس غنڈہ گردی اور غنڈہ راج کیلئے جانی جاتی ہے۔ وہ وہی کر رہی ہے جو وہ ۳۰/۴۰ سال پہلے کیا کرتے تھے‘‘۔
التجانے کہا کہ پارٹی نے انتظامیہ اور پولیس کے سامنے یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور تیزی سے کارروائی کرنے کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔
پی ڈی پی رہنما نے کہا’’کچھ ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ میں این سی کارکنوں کو متنبہ کرنا چاہتی ہوں کہ وہ ایسا کرنا بند کردیں۔ بصورت دیگر ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔مجھے لگتا ہے کہ نیشنل کانفرنس ہمیشہ اقتدار کے نشے میں رہی ہے۔‘‘










