نئی دہلی//
وزیر اعظم نریندر مودی ہفتہ کے روز ایک انتخابی ریلی میں شرکت کیلئے جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے جو اسمبلی انتخابات کے اعلان کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ان کی پہلی انتخابی مہم ہے۔
وزیر اعظم مودی ڈوڈہ ضلع میں بی جے پی کی انتخابی ریلی سے خطاب کرنے والے ہیں جہاں۱۸ ستمبر کو وادی چناب کے تین اضلاع میں آٹھ اسمبلی نشستوں کیلئے ووٹنگ شیڈول ہے۔
۲۰۱۴ کے اسمبلی انتخابات کے دوران ، وزیر اعظم مودی نے کشتواڑ ضلع میں بی جے پی کی انتخابی ریلی سے خطاب کیا تھا۔ پارٹی ذرائع نے بتایا کہ ڈوڈہ کے لوگ تب سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ وزیر اعظم کو دیکھنا اور سننا چاہتے ہیں۔
پارٹی ذرائع نے بتایا کہ کل کی انتخابی ریلی کے مقام کے طور پر ڈوڈہ کا انتخاب وزیر اعظم نے خود کیا تھا۔ انہی ذرائع نے بتایا کہ وقت کی دستیابی پر منحصر ہے کہ وزیر اعظم ہفتہ کو جموں ڈویڑن میں ایک اور انتخابی ریلی سے بھی خطاب کرسکتے ہیں۔
جموں و کشمیر میں تین مرحلوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پونچھ اور راجوری اضلاع کے کچھ حصوں میں بھی ووٹ ڈالے جائیں گے۔ بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعظم کے دورے سے یقینی طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پارٹی امیدواروں کے انتخابی امکانات کو فروغ ملے گا۔
پوری وادی چناب میں پہلے ہی ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور وی وی آئی پی اور بڑی تعداد میں لوگوں کی حفاظت کیلئے سیکورٹی فورسز اور پولیس اپنی ہر جگہ موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
بی جے پی پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس کے اسٹار کمپینر وزیر اعظم اسمبلی انتخابات کے ہر مرحلے میں انتخابی مہم کیلئے جموں و کشمیر کا دورہ کریں گے۔
پارٹی جموں ڈویڑن کی تمام ۴۳؍ اسمبلی نشستوں پر مقابلہ کر رہی ہے۔ پچھلی جموں و کشمیر اسمبلی میں بی جے پی کے پاس ۲۵؍ ایم ایل اے تھے۔ توقع ہے کہ وزیر اعظم مودی۱۹ ستمبر کو وادی کا دورہ کریں گے جب وہ سرینگر شہر میں بی جے پی کی ایک اور انتخابی ریلی سے خطاب کریں گے۔
جموں و کشمیر انتخابات کے تین مرحلوں میں ۱۸ستمبر‘۲۵ ستمبر اور یکم اکتوبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ووٹوں کی گنتی ۸؍ اکتوبر کو ہوگی۔
۲۰۱۴ میں ریاست میں محبوبہ مفتی کی قیادت میں پی ڈی پی،بی جے پی اتحاد تھا۔ یہ اتحاد جون ۲۰۱۸ میں اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب بی جے پی نے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ جموں و کشمیر کو گورنر راج کے تحت رکھا گیا تھا۔ اس وقت کے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے بعد میں اسمبلی تحلیل کردی تھی۔
۵؍اگست ۲۰۱۹ کو آرٹیکل۳۷۰ کو منسوخ کردیا گیا تھا اور ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کردیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر میں ۱۰سال بعد اسمبلی انتخابات ہو رہے ہیں اور دفعہ ۳۷۰؍ اور ۳۵؍ اے کی منسوخی کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے۔










