ہفتہ, اکتوبر 17, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی:سپریم کورٹ میں۲؍اگست سے روزانہ سماعت

 بنچ کی تمام فریقین کو۲۷جولائی تک متعلقہ دستاویزات داخل کرنے کی بھی ہدایت  

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2023-07-12
in اہم ترین
A A
سپریم کورٹ کا حکم، گیانواپی کی سیکورٹی سے متعلق عبوری حکم برقرار رہے گا
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

’لداخ کی ترقی مرکز کی اولین ترجیح‘

سپریم کورٹ میں مرکز کا بیان:’ریل بنانے والے اور آزاد صحافی میں فرق کرنا مشکل ‘

نئی دہلی//
سپریم کورٹ۲؍اگست سے تمام کام کے دنوں میں پیر اور جمعہ کے علاوہ ان درخواستوں پر سماعت کرے گی جس میں سابقہ جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل۳۷۰کو منسوخ کرنے کے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سنجے کشن کول، سنجیو کھنہ، جسٹس بی آر گاوائی اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل ایک آئینی بنچ نے منگل کو یہ حکم سنایا۔
آئینی بنچ۲؍اگست کو صبح  ساڈھے دس بجے سے سماعت شروع کرے گا۔ بنچ نے قبل ازیں تمام فریقین کو۲۷جولائی تک متعلقہ دستاویزات داخل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے ۔
تقریباً چار سال قبل۵؍اگست ۲۰۱۹کو مرکزی حکومت نے آئین کی دفعہ ۳۷۰کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد ریاست کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عظمیٰ میں مرکزی حکومت کا موقف پیش کیا۔ عدالت نے ان کے اس عرضی کا بھی نوٹس لیا کہ وزارت داخلہ نے نوٹیفکیشن کے بعد جموں و کشمیر کی بدلی ہوئی صورتحال پر۱۰جولائی کو ایک اضافی حلف نامہ کے ذریعے عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کیا ہے ۔ مہتا نے یہ بھی کہا کہ حلف نامہ کا آئینی سوال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
سالیسٹر جنرل نے کہا کہ آرٹیکل ۳۷۰کی منسوخی کے بعد ریاست میں موجودہ صورتحال پر کسی بھی طرف سے پیچھے ہٹنے کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی ہے ۔
آئینی بنچ کے سامنے ایک پارٹی کی طرف سے پیش ہوتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے نے عرض کیا کہ حلف نامہ کو میڈیا نے بڑے پیمانے پر رپورٹ کیا ہے ۔ اس پر بنچ نے کہا کہ مرکز کے حلف نامہ کا آئینی سوالات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
سپریم کورٹ کے سامنے دوسری طرف کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے کچھ لیڈروں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ لہذا انہیں دستاویزات پر دستخط کرنے کی ضرورت ہوگی۔ اس پر آئینی بنچ نے کہا کہ جہاں تک پارٹیاں بنانے کا تعلق ہے ، براہ کرم یہ سمجھ لیں کہ ہم کسی کو خاموش نہیں کریں گے لیکن وقت کو متوازن کرنا ہوگا۔
سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ راجو رام چندرن نے آئینی بنچ کو بتایا کہ آئی اے ایس افسر شاہ فیصل اور سماجی کارکن شہلا رشید نے اپنی درخواستیں واپس لے لی ہیں۔
یہ معاملہ (آرٹیکل۳۷۰کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو چیلنج کرنے والا) آخری بار مارچ۲۰۲۰میں سپریم کورٹ میں درج کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کچھ درخواست گزاروں نے اس معاملے کو سات ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے سماعت کے لیے بھیجنے کی درخواست کی تھی، لیکن بنچ نے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔
فروری۲۰۲۳میں کچھ درخواست گزاروں کی جانب سے چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ کے سامنے معاملے کی جلد سماعت کیلئے درخواست بھی دی گئی تھی۔ خصوصی ذکر کے دوران کی گئی اس درخواست پر بنچ نے کہا تھا کہ وہ مناسب وقت پر اس معاملے کی سماعت کیلئے فہرست بنانے پر فیصلہ کرے گی۔
سپریم کورٹ میں۱۰جولائی۲۰۲۳کو مرکز کی طرف سے داخل کردہ ایک نئے حلف نامہ میں تین دہائیوں کی بدامنی کے بعد آئین کے آرٹیکل۳۷۰کے تحت سابقہ ریاست کی خصوصی حیثیت کو واپس لینے کے بعد جموں و کشمیر میں معمولات زندگی لوٹ آئے ہیں اور۵؍اگست۲۰۱۹کو ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے ۔
مرکز نے اپنے تحریری جواب میں کہا ہے کہ مئی۲۰۲۳کے مہینے میں سرینگر میں جی۲۰ٹورزم ورکنگ گروپ کی میٹنگ کی میزبانی وادی کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔ سیاحت اور ملک نے فخر کے ساتھ دنیا کے سامنے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا کہ ایک علیحدگی پسند یا دہشت گردی سے متاثر خطے میں بین الاقوامی معززین کو بھی مدعو کیا جا سکتا ہے اور عالمی تقریبات کا انعقاد کیا جا سکتا ہے ۔
مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں تین دہائیوں کی بدامنی کے بعد زندگی معمول پر لوٹ آئی ہے ۔ پچھلے تین سالوں میں اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بغیر کسی ہڑتال کے آرام سے چل رہی ہیں۔ ہڑتالوں اور بندوں کا پہلے رواج اب ماضی بن چکا ہے ۔ کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت غیر معمولی ہے ۔ سال۲۳۔۲۰۲۲میں یہ تعداد۶۰لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔
یہ حقائق۲۰۱۹میں کی گئی آئینی تبدیلیوں کے مثبت اثرات کو واضح طور پر ثابت کرتے ہیں۔
ShareTweetSendShareSend
Previous Post

قومی شاہراہ بحال ‘۵۵۰۰ امرناتھ یاتریوں کو آگے بڑھنے کی اجازت

Next Post

’۲۰۲۴ میں جیت آسان نہیں ‘بی جے پی، این ڈی اے بحال کرنے کیلئے کوشاں‘

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

’بھارت دہشت گردی کیخلاف موقف پر ثابت قدم‘
اہم ترین

’لداخ کی ترقی مرکز کی اولین ترجیح‘

2026-10-16
۱۳ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد 
اہم ترین

سپریم کورٹ میں مرکز کا بیان:’ریل بنانے والے اور آزاد صحافی میں فرق کرنا مشکل ‘

2026-10-16
سانبہ میں گھر گھر تلاشی لوگوں سے پوچھ گچھ
اہم ترین

جموں و کشمیر کے کئی علاقوں میں بارش، بالائی علاقوں میں تازہ برف باری سے پہاڑ سفید

2026-10-16
’سرینگر میں بائر سیلر ملاقات سے برآمدات کو نئی رفتار ملے گی‘
اہم ترین

سونمرگ کو سال بھر ایڈونچر کھیلوں کا مرکز بنانے کا منصوبہ:عمر

2026-10-16
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

سنہا کی ’جشنِ ڈل‘ کی کامیاب تکمیل پر پولیس کو مبارک باد

2026-10-16
امریکہ ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے :راج ناتھ
اہم ترین

پاکستان سے کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا پہلے سے زیادہ  سخت جواب دیا جائے گا: راجناتھ

2026-10-16
اہم ترین

بی جے پی نے جموں  کشمیر حکومت کے ’دوہرے اقتدار‘ کے مؤقف کو مسترد کردیا

2026-10-16
پولیس نے سرینگر میں ۵ رہائشی مکان مقفل کئے
اہم ترین

سرینگر میں منشیات کے خلاف  کارروائی، ۱۳ء۴۳ کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے منسلک

2026-10-16
Next Post
ای ڈی نے مجھ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا ‘عمرعبداللہ

’۲۰۲۴ میں جیت آسان نہیں ‘بی جے پی، این ڈی اے بحال کرنے کیلئے کوشاں‘

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.