سرینگر//
جموں وکشمیر انتظامیہ نے جھیل ڈل میں غیر قانونی تعمیرات کے الزام میں شاہ سکندر نامی سبکدوش افسر کے عہدے میں تنزلی کے احکمات صادر کئے ہے۔
پیر کے روز جاری ایک حکمنامے کے مطابق افسر انچارج ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی وائی ایس پی) کے عہدے پر تعینات کیا گیا تھا، جب ایک انکوائری میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان کے عہدے کے دوران لیک اینڈ کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے بلڈنگ پلان اور ماسٹر پلان کے خلاف ورزیاں ہوئی تھیں۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شاہ سکندر لیکس اینڈ کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی کے اس کے وقت انفورسمنٹ افسر کو اس وقت کی سٹیٹ ویجیلنس آرگنائزیشن نے۱۴مارچ۲۰۱۷ کو ڈل جھیل کے ایک علاقے میں قوانین کے خلاف ورزی کے الزام میں۲۰۱۵ میں گرفتار بھی کیا تھا۔
ایسے میں انہوں نے۲۵ستمبر۲۰۱۷ کو اپنا بیان جمع کرایا اور تمام الزمات کی تردید کی۔ حکم نامے کے مزید کہا گیا ہے کہ جمع کرایا گیا جواب غیر تسلی بخش پایا گیا اور اس کے مطابق چارجز کی مکمل انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔یکم جنوری ۲۰۱۸کو حکومت نے ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری افسر مقرر کیا۔
رپورٹ میں انکوائری افسر نے ثابت کیا کہ لیکس اینڈ کنزرویشن اینڈ منیجمنٹ اتھارٹی میں اپنی تعیناتی کے دوران عمارت کی اجازت کے اصولوں اور ڈل جھیل کے اردگرد غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ورزی کی گئی تھی۔ جس کے بعد مجاز اتھارٹی نے خلاف ورزی کرنے پر مذکورہ عہدے میں کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔










