ڈاکٹر فاروق کی تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی؛ دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی بحالی کی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
سرینگر؍۶نومبر
نیشنل کانفرنس کی قیادت نے جمعہ کے روز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات کے بعد اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی حکمراں جماعت میں اختلافات اور اندرونی خلفشار کی خبروں کو مسترد کردیا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی میں پھوٹ پڑنے سے متعلق قیاس آرائیوں کو بے بنیاد افواہیں قرار دیتے ہوئے کہا کہ جماعت متحد ہے اور اسے کبھی تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
پارٹی قیادت نے جمعہ کی صبح ان ارکان اسمبلی کے تحفظات دور کرنے کے لیے اجلاس طلب کیا تھا، جو مبینہ طور پر حالیہ کابینہ توسیع کے دوران وزارتی کونسل میں جگہ نہ ملنے پر ناراض تھے۔ اجلاس میں نیشنل کانفرنس کے ۱۵ ارکان اسمبلی نے گپکار میں واقع عبداللہ خاندان کی رہائش گاہ پر شرکت کی۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ان کے ہمراہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور تمام ۱۵ ارکان اسمبلی موجود ہیں اور نیشنل کانفرنس میں دھڑے بندی سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔
داکٹر فاروق نے کہا، ’’یہ بے بنیاد افواہیں پھیلائی جارہی ہیں کہ نیشنل کانفرنس مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوگئی ہے، جو سراسر غلط ہے۔ یہ جماعت متحد اور منظم ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس جماعت کو روک سکتے ہیں، انہیں جان لینا چاہئے کہ یہ جماعت نہ کبھی ٹوٹی ہے اور نہ ہی آئندہ کبھی ٹوٹے گی، ان شاء اللہ۔‘‘
این سی صدر نے کہا کہ پارٹی قیادت نے ناراض ارکان اسمبلی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی اور ان کے تحفظات سنے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل حقیقی نوعیت کے تھے، جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا اور ہر ایک کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا گیا۔
ڈاکٹرفاروق نے کہا کہ ان شاء اللہ پارٹی اور حکومت کو مزید مستحکم بنانے کے لیے بعض اقدامات فوری طور پر اٹھائے جائیں گے، جبکہ دیگر معاملات کو مرحلہ وار حل کیا جائے گا۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ کیا جائے گا اور ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵ اے کی بحالی کی لڑائی بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس جدوجہد کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
فاروق عبداللہ سے ملاقات کرنے والے رہنماؤں میں عبدالمجید لارمی بھی شامل تھے، جنہوں نے سب سے پہلے کابینہ میں توسیع اور انہیں وزارتی کونسل میں شامل نہ کیے جانے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ دیگر رہنماؤں میں ٹنگمرگ کے رکن اسمبلی فاروق شاہ، سینئر پارٹی رہنما اور عیدگاہ کے رکن اسمبلی مبارک گل، سابق رکن پارلیمنٹ اور پانپور کے رکن اسمبلی حسنین مسعودی، گریز کے رکن اسمبلی نذیر گریزی، پونچھ کے رکن اسمبلی اعجاز جان، بدھل کے رکن اسمبلی جاوید اقبال چوہدری، خان صاحب کے رکن اسمبلی سیف الدین بھٹ، لولاب کے رکن اسمبلی قیصر جمشید لون، کرناہ کے رکن اسمبلی جاوید مرچال، اوڑی کے رکن اسمبلی سجاد شفیع، راجپورہ کے رکن اسمبلی غلام محی الدین میر اور بجبہاڑہ کے رکن اسمبلی بشیر ویری شامل تھے۔
گریزی نے کہا کہ ارکان اسمبلی وقتاً فوقتاً اپنے مسائل پارٹی قیادت کے سامنے رکھتے رہتے ہیں۔
گریزی نے کہا کہ چند روز قبل بھی ارکان اسمبلی ایک جگہ جمع ہوئے تھے، تاہم سوشل میڈیا پر اس ملاقات کو اس انداز میں پیش کیا گیا جیسے نیشنل کانفرنس سے الگ کوئی دھڑا وجود میں آگیا ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ کوئی الگ دھڑا بنا ہے اور نہ ہی کوئی نئی جماعت وجود میں آئی ہے۔
گریز کے ممبر اسمبلی نے مزید کہا کہ ارکان اسمبلی نے بعض مسائل وزیر اعلیٰ اور پارٹی صدر کے سامنے رکھے ہیں۔ ان کے مطابق قیادت نے سیاسی اور دیگر معاملات کے حوالے سے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کچھ مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ باقی معاملات پر بتدریج کام ہوگا۔
واضح رہے کہ یہ اجلاس ۲۷ ؍اکتوبر کو ہونے والی کابینہ توسیع کے بعد پارٹی کے متعدد سینئر رہنماؤں میں پائی جانے والی ناراضگی کی خبروں کے تناظر میں منعقد ہوا۔ کابینہ توسیع کے دوران چار نئے وزراء کو شامل کیا گیا تھا، جس کے بعد وزارتی کونسل اپنی مقررہ قانونی حد یعنی نو وزراء تک پہنچ گئی تھی۔
کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر چھ مرتبہ رکن اسمبلی منتخب ہونے والے مبارک گل سمیت کئی سینئر رہنماؤں نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ ناراض ارکان اسمبلی نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے تنظیمی اور انتظامی نوعیت کے متعدد معاملات اور تحفظات بھی اٹھائے تھے۔
۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)








