نئی دہلی، 4نومبر (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنماؤں اور مرکزی وزراء نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ مباحثے کے لیے کانگریس رہنما راہل گاندھی کے چیلنج پر سخت تنقید کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ صحیح مباحثہ ہم مرتبہ افراد کے درمیان ہوتا ہے اور مسٹر گاندھی کے چیلنج کا جواب دینے کے لیے بی جے پی کے جونیئر کارکن ہی کافی ہیں۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے مسٹر گاندھی پر طنز کرتے ہوئے انہیں پہلے بی جے پی کے کسی نوجوان لیڈر کا مقابلہ کرنے کا چیلنج دیا۔ انہوں نے مسٹر گاندھی کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ راہل گاندھی کو مباحثے کا چیلنج دینے کے لیے وزیر اعظم کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ بی جے پی یووا مورچہ کے صدر ہی ان کے لیے کافی ہیں۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پر کہاکہ اعلیٰ سطح کے مباحثے سمجھدار اور بالغ نظر لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں۔
مسٹر رجیجو نے مزید کہاکہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے اسلامی انتہا پسند سیکولرازم کی بات کریں، علیحدگی پسند ہندوستانی پرچم تھامیں یا انتشار پسند آئین کی کتاب دکھائیں۔ ہندوستان کے دشمنوں کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا اور ساتھ ہی دوسروں پر غیر ملکی حمایت حاصل کرنے کا الزام لگانا، خود اپنا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔”
مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے مسٹر گاندھی پر زبانی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ”صرف بیان بازی نہ کیجیے، اگر ہمت ہے تو وزیر داخلہ جی کا چیلنج قبول کیجیے یا بی جے پی کے کسی سرگرم کارکن سے مباحثہ کرکے دکھائیے! وزیر اعظم جی کا نام جوڑ کر سرخیاں حاصل کرنے کی سیاست بند کیجیے!”
پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر نشی کانت دوبے نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اپوزیشن لیڈر مسٹر گاندھی کو چیلنج دیتے ہوئے کہاکہ ”میں کانگریس دفتر آکر آپ سے دستاویزات، مسائل اور آپ کے ساتھ غیر ملکی طاقتوں کے تعاون پر مباحثہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ دن اور وقت طے کرلیجیے۔ مجھ سے مطمئن ہوجائیے، پھر ہمارے رہنماؤں کو چیلنج کیجیے۔”
واضح رہے کہ مسٹر گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا ہے، ”وزیر اعظم اپوزیشن کو ملک کا غدار قرار دیتے ہیں، اس لیے انہیں کسی بھی پلیٹ فارم پر آمنے سامنے بیٹھ کر مباحثہ کرنا چاہیے۔ مباحثے میں غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ مبینہ تعلقات، مالیاتی نظام، امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدے اور اس معاہدے میں جلد بازی کرنے، کابینہ کو اس کی اطلاع نہ دینے اور صنعت کار اڈانی کے معاملے سمیت تمام معاملات پر کھل کر بات ہونی چاہیے۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مباحثے میں ذرائع ابلاغ اور ملک کے نوجوان موجود رہیں اور وزیر اعظم اپنی پسند کے کسی بھی شخص کو فیصلہ کرنے والا مقرر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کو بھی فیصلہ کرنے والا مقرر کیا جاسکتا ہے۔







