نئی دہلی، 31 اکتوبر (یواین آئی) محکمہ موسمیات نے ہفتہ کے روز بتایا کہ جنوب مشرقی خلیج بنگال کے اوپر بننے والا ایک نیا موسمی نظام مزید طاقتور ہو کر گہرے دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس کے 2 نومبر تک آندھرا پردیش کے ساحل کی جانب بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ہندوستان کے کچھ حصوں میں شدید سے بہت شدید بارش، گرج چمک کے ساتھ طوفان اور تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے صبح جاری کردہ اپنے تازہ ترین آل انڈیا ویدر سمری اینڈ فورکاسٹ بلیٹن میں 2 اور 3 نومبر کو ساحلی آندھرا پردیش اور یانم میں بعض مقامات پر بہت شدید بارش ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ خراب موسم کے باعث نقل و حمل کا نظام متاثر ہو سکتا ہے، فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے بتایا کہ جنوبی انڈمان سمندر اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں بنا کم دباؤ کا حلقہ مغرب-شمال مغرب کی جانب بڑھ گیا ہے اور جنوب مشرقی خلیج بنگال، اس سے متصل انڈمان و نکوبار جزائر اور انڈمان سمندر کے اوپر واضح کم دباؤ کے علاقے میں تبدیل ہو گیا ہے۔
آج صبح 5 بج کر 30 منٹ پر یہ نظام مذکورہ علاقے کے اوپر موجود تھا اور اس سے وابستہ کم دباؤ کا حلقہ سطح سمندر سے 7.6 کلومیٹر کی بلندی تک پھیلا ہوا تھا۔ محکمہ موسمیات نے کہا، اس کے مغرب-شمال مغرب کی جانب بڑھنے اور آئندہ 12 گھنٹوں کے دوران اسی علاقے میں گہرے دباؤ کے حلقہ میں تبدیل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔
اس کے بعد اس موسمی نظام کے مزید شدت اختیار کرنے اور 2 نومبر کی شام تک آندھرا پردیش کے ساحل کے قریب مغربی وسطی خلیج بنگال میں پہنچنے کا امکان ہے۔ آئی ایم ڈی نے اپنے صبح کے بلیٹن میں یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ زیرِ تشکیل نظام پہلے ہی سمندری طوفان میں تبدیل ہو چکا ہے اور نہ ہی اس نے ساحل سے ٹکرانے کے کسی مقام کی نشاندہی کی ہے۔
پیش گوئی کے مطابق، یکم اور 4 نومبر کو ساحلی آندھرا پردیش اور یانم میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے، جبکہ 2 اور 3 نومبر کو بارش کی شدت میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔
2 اور 3 نومبر کے دوران ساحلی آندھرا پردیش اور رائل سیما میں گرج چمک کے ساتھ طوفانی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔ اس دوران ہوا کی رفتار 40 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ رہ سکتی ہے، جو جھکڑوں کے ساتھ بڑھ کر 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ 31 اکتوبر سے 3 نومبر تک ان علاقوں میں سطح زمین کے قریب تیز ہوائیں چلنے کا بھی امکان ہے۔
اس موسمی نظام کا اثر جنوبی ہندوستان کی کئی ریاستوں میں دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ نومبر کے پہلے ہفتے کے دوران تلنگانہ، تمل ناڈو، کیرالہ اور کرناٹک کے کچھ حصوں میں شدید بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
حکمہ موسمیات نے یکم اور 2 نومبر کو تلنگانہ، 2 اور 3 نومبر کو رائل سیما، نیز 2 اور 3 نومبر کے دوران تمل ناڈو، پڈوچیری اور کرائیکل میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ کیرالہ اور ماہے میں یکم سے 3 نومبر کے درمیان بعض مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے، جبکہ یکم اور 2 نومبر اور پھر 5 نومبر کو وسیع علاقوں میں بارش ہونے کے امکانات ہیں۔
کرناٹک میں 3 سے 5 نومبر تک ساحلی اضلاع، 3 اور 4 نومبر کو شمالی اندرونی کرناٹک اور 2 سے 5 نومبر تک جنوبی اندرونی کرناٹک میں بعض مقامات پر شدید بارش ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ 6 نومبر کو جنوبی اندرونی کرناٹک کے بعض الگ تھلگ مقامات پر شدید بارش ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں تمل ناڈو، پڈوچیری، کرائیکل، تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے کچھ حصوں میں بجلی چمکنے اور تیز ہواؤں کے ساتھ گرج چمک کے طوفان آ سکتے ہیں۔
یکم سے 3 نومبر کے دوران کیرالہ اور کرناٹک کے اندرونی علاقوں میں 30 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے اور جھکڑوں کے ساتھ ان کی رفتار 50 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
محکمہ نے کہا کہ بننے والی موسمی صورت حال سے باغات، باغبانی کی فصلوں اور کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شدید بارش اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔
یلے اور پپیتے کے پودوں سمیت چھوٹے درخت اکھڑ سکتے ہیں، جبکہ کمزور ڈھانچوں، جھونپڑیوں اور کچے مکانات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شدید بارش کے سبب مقامی سطح پر سیلاب، پانی جمع ہونے اور حدِ نگاہ میں کمی جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے سڑک اور ریل ٹرانسپورٹ متاثر ہو سکتی ہے۔
محکمہ موسمیات نے حساس علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی صورت حال پر گہری نظر رکھیں، بجلی چمکنے کے دوران درختوں کے نیچے پناہ لینے سے گریز کریں اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے تیار رہیں۔ محکمہ نے انڈمان سمندر اور خلیج بنگال کے بعض حصوں میں کام کرنے والے ماہی گیروں کے لیے بھی وارننگ جاری کی ہے، کیونکہ موسمی نظام کے مزید مضبوط ہونے پر ان علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ خراب موسم رہنے کا امکان ہے۔







