ارے صاحب! اتنا جذباتی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے……. بالکل بھی نہیں ہے۔ سیاست میں یہ سب ہوتا رہتا ہے اور جو سیاست میں ہوتا رہتا ہے، اللہ میاں کی قسم، وہ خالص سیاست ہوتی ہے اور……. اور کچھ نہیں ہوتی ہے، بالکل بھی نہیں ہوتی ہے۔کسی کا کسی پارٹی میں داخل ہونا سیاست، کسی کا کسی پارٹی سے نکل جانا سیاست، کسی کا کسی پارٹی پر تنقید کرنا سیاست، اپوزیشن کا حکمران جماعت کو گھیرنے کی کوشش سیاست، حکمران جماعت کا اپوزیشن جماعتوں پر شکنجہ کسنے کی کوشش سیاست……. اور صاحب! یہ بھی تو سچ ہے کہ اگر سیاست میں سیاست نہیں ہوگی تو……. تو پھر کہاں ہوگی؟ اگر سیاستدان سیاست نہیں کریں گے تو……. تو کون کرے گا؟ آپ اور میں تو نہیں کریں گے یا نہیں کر سکیں گے، حالانکہ ایک عام کشمیری کی رگ و پے میں سیاست رچی بسی ہے اور وہ اپنی عام خام زندگی میں بھی سیاست کرتا ہے……. اپنوں سے بھی اور پرائیوں سے بھی، حتیٰ کہ رشتہ داروں سے بھی۔خیر! آج آپ نے جو سنا……. آغا روح اللہ کو سنا اور ان کی باتیں سن کر آپ کو لگا ہوگا کہ……. کہ واہ! کیا بات ہے، اس بندے میں دم ہے اور……. اور اس لیے ہے کیوں کہ یہ دھوتی کھول رہا ہے……. باپ بیٹے کی دھوتی کھول رہا ہے۔یقیناً کھول رہا تھا، لیکن……. لیکن صاحب! یقین کیجیے، مہدی صاحب کا این سی سے مستعفی ہونا، لوک سبھا کی نشست سے الگ ہونا، این سی پر الزامات کی بارش کرنا، اس پر وعدوں سے انحراف کا الزام لگانا……. یہ سب کچھ سیاست ہے اور……. اور اللہ میاں کی قسم، سیاست کے سوا کچھ نہیں، کہ……. کہ بالآخر آغا روح اللہ صاحب بھی ایک سیاستدان ہی ہیں……. اور سیاستدان اگر سیاست نہیں کرے گا تو……. تو کیا کرے گا؟ کہ……. کہ یہ بات ایسے ہی ہے جیسے گھوڑا اگر گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا؟……. اس لیے گھوڑا گھاس سے دوستی نہیں کرتا……. اگر ایسا کیا تو وہ بھوکوں مر جائے گا۔اور اگر سیاستدان سیاست نہیں کرے گا تو……. تو وہ بھی مر جائے گا۔ اس کی بھی موت ہو جائے گی۔ سیاسی موت۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔




