سرینگر؍۲۷؍ اکتوبر
عمر عبداللہ کی کابینہ میں توسیع کے بعد نیشنل کانفرنس کے اندر ناراضگی کی اطلاعات سامنے آنے لگی ہیں۔ وزارت نہ ملنے سے ناخوش بعض سینئر رہنماؤں اور ان کے حامیوں کی بے اطمینانی کے درمیان پارٹی قیادت انہیں منانے اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
سینئر نیشنل کانفرنس رہنما اور گریز کے رکن اسمبلی نزیِر احمد گریز ی کی ناراضگی کی اطلاعات کے بعد منگل کو دو نئے وزراء میر سیف اللہ اور الطاف احمد کلو ان کی سرینگر کے تولسی باغ میں واقع رہائش گاہ پہنچے۔ ان کے ہمراہ لولاب اور سمبل سوناواری کے ارکان اسمبلی کے علاوہ جاوید بیگ بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق، رہنماؤں نے گریز ی کو پارٹی قیادت کے فیصلے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، تاہم فوری طور پر ان کی رضامندی کی اطلاع نہیں ملی۔
گریز ی کو کابینہ میں جگہ ملنے کے مضبوط دعویداروں میں شمار کیا جارہا تھا، لیکن انہیں وزارت نہیں ملی اور وہ ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ حلف برداری کی تقریب میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ ان کی ناراضگی کے پس منظر میں بانڈی پورہ ضلع کو کابینہ میں نمائندگی ملنے کی توقعات بھی اہم سمجھی جارہی ہیں۔
ادھر، عیدگاہ کے سینئر نیشنل کانفرنس رہنما اور رکن اسمبلی مبارک گل کی جانب سے پارٹی کے جنرل سیکریٹری کا عہدہ قبول نہ کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق، مبارک گل نے تاحال یہ ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بتایا جاتا ہے کہ عیدگاہ میں ان کے حامی اس بات پر ناخوش ہیں کہ طویل عرصے سے پارٹی کے لیے کام کرنے کے باوجود انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ مبارک گل کو کابینہ میں توسیع کے بعد جنرل سیکریٹری مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم، نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے نیشنل کانفرنس میں ناراضگی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے میڈیا سے اپیل کی کہ اس معاملے کو غیر ضروری تنازع نہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات اور تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں اور انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے کابینہ میں توسیع نہ ہونے پر مسلسل سوالات اٹھائے جارہے تھے، لیکن اب توسیع کے بعد بعض رہنماؤں کو جگہ نہ ملنے پر ایک نیا معاملہ کھڑا کیا جارہا ہے۔ چودھری نے زور دیا کہ نئے وزراء اور حکومت کو کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تاکہ عوام کو فائدہ پہنچ سکے۔
کابینہ میں چار نئے وزراء کی شمولیت کے بعد حکومت میں کام کی تقسیم بہتر ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پہلے پانچ وزراء پر زیادہ بوجھ ہونے کی شکایت کی جاتی تھی، لیکن اب مزید چار وزراء شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، کارکردگی کا اندازہ لگانے سے پہلے وزراء کو کام کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔
کابینہ میں توسیع کے چند گھنٹوں بعد ہی سینئر رہنماؤں کی ناراضگی سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے نیشنل کانفرنس کے لیے ایک نئی داخلی آزمائش پیدا کردی ہے۔ تاہم، نازِر گریز ی اور مبارک گل کے معاملے پر پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، جبکہ نائب وزیر اعلیٰ نے اختلافات کی خبروں کو معمول کی سیاسی صورتحال قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق رپورٹ)







