سرینگر؍۲۷؍اکتوبر
کرائم برانچ کشمیر کے اسپیشل کرائم ونگ نے غیر ملکی کرنسی میں سرمایہ کاری کی مبینہ اسکیم کے ذریعے کشمیر کے۱۲ باشندوں سے۱۶ لاکھ۷۸ ہزار۵۰۰ روپے ہتھیانے کے الزام میں ایک شخص کے خلاف چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کی عدالت میں چالان پیش کیا ہے۔
ملزم کی شناخت اتر پردیش کے غازی آباد علاقے کے پرتاپ وہار کے رہائشی سنیل سنگھ ولد ارجن سنگھ کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے خلاف پولیس اسٹیشن اسپیشل کرائم ونگ کشمیر میں درج ایک ایف آئی آرکے سلسلے میں چالان پیش کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ملزم پر تعزیراتِ ہند کی دفعہ۴۲۰؍ اور غیر منضبط جمع اسکیموں پر پابندی سے متعلق قانون۲۰۱۹کی دفعات۵؍ اور۲۳ کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
یہ معاملہ عابد حسین جو اور سرینگر کے۱۱ دیگر باشندوں کی شکایت پر سامنے آیا۔ شکایت کنندگان نے الزام لگایا کہ انہیں ’’ٹرونکس پاور اینڈ کیپیٹل انویسٹمنٹ پروگرام، دہلی‘‘ کے نام سے چلنے والی مبینہ غیر ملکی کرنسی کی سرمایہ کاری اسکیم میں اپنی جمع پونجی لگانے پر آمادہ کیا گیا۔
شکایت کے مطابق سرمایہ کاری پر مختصر مدت میں بھاری منافع دینے کی یقین دہانی کرائی گئی، جس کے بعد انہوں نے اس اسکیم میں رقم جمع کرائی۔
ابتدائی جانچ کے دوران تفتیش کاروں کو شکایت کنندگان کو منافع بخش سرمایہ کاری کا لالچ دے کر رقم لگوانے اور بعد میں مبینہ طور پر دھوکہ دہی کا نشانہ بنانے کے الزامات سامنے آئے۔ اس کے بعد ایف آئی آر درج کرکے تفصیلی تحقیقات شروع کی گئیں۔
کرائم برانچ کے مطابق تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ شکایت کنندگان نے مجموعی طور پر۱۶لاکھ۷۸ہزار۵۰۰ روپے بینکنگ ذرائع کے ذریعے ان کھاتوں میں منتقل کیے جو مبینہ طور پر ملزم سے منسلک تھے۔
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بھی تحقیقاتی ایجنسی کو مطلع کیا کہ متعلقہ سرمایہ کاری پروگرام اس کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا۔
تحقیقات مکمل کرنے اور جمع کیے گئے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسپیشل کرائم ونگ نے قانونی کارروائی کے لیے چالان متعلقہ عدالت میں پیش کیا ہے۔ ملزم کے خلاف الزامات کا تعین عدالتی کارروائی کے دوران کیا جائے گا۔
اسپیشل کرائم ونگ کشمیر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ایسی سرمایہ کاری اسکیموں میں رقم لگانے سے پہلے احتیاط برتیں جو غیر معمولی یا مختصر مدت میں بھاری منافع دینے کے وعدے کرتی ہیں۔
ایجنسی نے مشورہ دیا ہے کہ سرمایہ کاری کرنے سے قبل متعلقہ اداروں کی ساکھ اور اسکیم کی قانونی و ضابطہ جاتی حیثیت کی تصدیق کی جائے۔ عوام سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری سے متعلق کسی بھی مشتبہ دھوکہ دہی کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام کو دیں تاکہ مزید مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
۔۔۔۔(ویب ڈیسک)







