کابینہ کی تشکیل یا اس میں توسیع کسی بھی حکمران جماعت کے لیے ایک اہم سیاسی مرحلہ ہوتا ہے۔ محدود وزارتوں میں تمام دعوے داروں کو جگہ دینا ممکن نہیں، لیکن ایسے فیصلوں میں سیاسی بصیرت، علاقائی توازن اور جماعتی اتحاد کو برقرار رکھنا قیادت کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔ نیشنل کانفرنس کی آج کابینہ توسیع نے بھی انھی چیلنجوں کو نمایاں کیا ہے، جہاں وزارت نہ ملنے پر بعض سینئر رہنماؤں نے اپنی ناراضگی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔
عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم نیشنل کانفرنس حکومت نے تقریباً دو سال بعد کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے چار نئے وزیروں کو شامل کیا ہے۔ علی محمد ساگر، شمیمہ فردوس، میر سیف اللہ اور الطاف احمد کلو نے منگل کو سری نگر کے لوک بھون میں عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ اس توسیع سے کابینہ کی تشکیل کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہوا، لیکن اس کے ساتھ ہی ان رہنماؤں کی ناراضگی بھی سامنے آگئی جنہیں وزارت میں جگہ نہیں مل سکی۔ اس صورت حال کا جائزہ صرف نئے وزیروں کی شمولیت تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس کے جماعتی اور سیاسی اثرات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما مبارک گل کی ناراضگی خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ وہ عیدگاہ اسمبلی حلقے سے طویل عرصے سے کامیاب ہوتے رہے ہیں اور پارٹی کے تجربہ کار رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وزارت نہ ملنے پر انہوں نے اپنی مایوسی چھپانے کے بجائے کھل کر اظہار کیا اور کہا کہ وہ تیس مرتبہ حلف برداری کی تقریبات میں شرکت کرچکے ہیں، لیکن ہر بار انہیں نظرانداز کیا گیا۔ ان کا بیان محض ایک فرد کی محرومی کا اظہار نہیں، بلکہ اس احساس کی عکاسی بھی کرتا ہے جو طویل عرصے تک جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے والے رہنماؤں میں اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب وہ خود کو فیصلہ سازی کے اہم مرحلے پر غیر متعلق محسوس کرنے لگیں۔
اسی طرح اننت ناگ ویسٹ کے رکن اسمبلی عبدالمجید لارمی نے بھی وزارت نہ ملنے پر دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سینئرٹی، دیانت داری اور پارٹی سے وفاداری کی بنیاد پر وزارت کے مستحق تھے، تاہم انہوں نے قیادت کے فیصلے کو قبول کرنے کا اعلان بھی کیا۔ ان کے مطابق ان کا دل دکھا ہے، کیونکہ وہ بھی ایک انسان ہیں۔
سیاسی جماعتوں میں اختلاف اور محرومی کا احساس غیر معمولی نہیں، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ قیادت ایسے جذبات کو کس طرح سنبھالتی ہے۔ ناراض رہنماؤں کے تحفظات کو نظرانداز کرنے سے اختلافات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ سنجیدہ بات چیت اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔
تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ عمر عبداللہ کے لیے کابینہ کی تشکیل میں قانونی اور عددی حدود کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ جموں و کشمیر میں وزیروں کی تعداد مقررہ حد کے تابع ہے، اس لیے ہر دعوے دار کو وزارت دینا ممکن نہیں۔ جب عہدے محدود اور امیدوار زیادہ ہوں تو کسی نہ کسی کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا کابینہ میں جگہ نہ ملنے والے ہر رہنما کے ساتھ ناانصافی کا دعویٰ بھی درست نہیں ہوگا۔ وزارتوں کی تقسیم میں اہلیت، تجربہ، علاقائی نمائندگی، سیاسی ضرورت اور انتظامی ترجیحات سمیت کئی عوامل کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔
اس کے باوجود یہ سوال اہم ہے کہ کیا کابینہ کی توسیع سے پہلے ممکنہ ناراضگیوں کا اندازہ لگانے اور جماعت کے اندر مشاورت کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی تھی؟ اگر سینئر رہنما حلف برداری کے فوراً بعد اپنی محرومی کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں تو قیادت کے طرزِ مشاورت کے بارے میں سوالات اٹھنا فطری ہے۔ سیاسی جماعتوں میں ہر فیصلے پر اتفاق رائے ممکن نہیں، لیکن متاثرہ رہنماؤں کو اعتماد میں لینا اور ان کے تحفظات سننا قیادت کی ذمہ داری ہے۔ اختلافات کو دبانے کے بجائے انہیں سمجھنا اور مناسب طریقے سے حل کرنا زیادہ ضروری ہے۔
مبارک گل اور عبدالمجید لارمی کی ناراضگی کو فوری طور پر جماعت سے بغاوت یا علیحدگی کے امکان سے جوڑنا بھی مناسب نہیں۔ لارمی نے واضح کیا ہے کہ وہ قیادت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے جماعت کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ یہ رویہ ظاہر کرتا ہے کہ ناراضگی کے باوجود جماعتی وابستگی برقرار رہ سکتی ہے۔ قیادت کو ان جذبات کو مخالفت سمجھنے کے بجائے اپنے اندرونی نظام کا جائزہ لینے کا موقع تصور کرنا چاہیے۔ طویل سیاسی سفر میں وفاداری کی قدر صرف عہدہ دیتے وقت نہیں، بلکہ محرومی کی صورت میں بھی ہونی چاہیے۔ کسی رہنما کے احترام اور خدمات کا اعتراف اس کے سیاسی مقام کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کابینہ کی توسیع میں علاقائی نمائندگی اور مختلف طبقات کی شمولیت کا پہلو بھی اہم ہے۔ جموں و کشمیر ایک متنوع خطہ ہے، جہاں مختلف علاقوں اور سماجی حلقوں کی توقعات حکومت سے وابستہ ہیں۔ محدود وزارتوں میں ہر علاقے اور طبقے کو براہ راست نمائندگی دینا ممکن نہیں، لیکن فیصلوں میں توازن اور شفافیت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اسی طرح خواتین اور تجربہ کار عوامی نمائندوں کی شمولیت کے لیے بھی واضح معیار ہونا چاہیے، تاکہ فیصلے محض سیاسی مصلحت کا نتیجہ محسوس نہ ہوں۔
اب جبکہ کابینہ کی توسیع مکمل ہوچکی ہے، حکومت اور پارٹی قیادت دونوں کے لیے اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔ نئے وزیروں کو اپنی کارکردگی سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوامی توقعات پر پورا اتر سکتے ہیں، جبکہ وزیر اعلیٰ کو یقینی بنانا ہوگا کہ حکومت کی توجہ داخلی اختلافات کے بجائے عوامی مسائل کے حل پر مرکوز رہے۔ روزگار، ترقی، بہتر بنیادی سہولیات اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل وہ بنیادی معاملات ہیں جن پر حکومت کی کارکردگی پرکھی جائے گی۔ عوام کے لیے زیادہ اہم یہ ہے کہ ان کے مسائل حل ہورہے ہیں یا نہیں، نہ کہ وزارتوں کی تقسیم پر جماعت کے اندر کتنی بحث جاری ہے۔
نیشنل کانفرنس کی قیادت کے لیے مناسب وقت ہے کہ وہ ناراض سینئر رہنماؤں کے ساتھ سنجیدہ مکالمے کا راستہ اختیار کرے اور جماعتی اعتماد کو مضبوط بنائے۔ کابینہ کی توسیع ایک انتظامی ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن جماعتی اتحاد برقرار رکھنا مسلسل سیاسی ذمہ داری ہے۔ محدود وزارتوں کے باعث ہر خواہش پوری نہیں کی جاسکتی، مگر مشاورت، احترام اور شفافیت کے ذریعے محرومی کے احساس کو کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔
آخرکار، کابینہ کی کامیابی کا پیمانہ صرف وزارتوں کی تقسیم نہیں، بلکہ عوامی مسائل کے حل، وعدوں کی تکمیل اور لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے کی صلاحیت ہے۔ نیشنل کانفرنس کی قیادت کو داخلی اختلافات سے نمٹتے ہوئے یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ جماعتی اتحاد اور مؤثر حکمرانی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب تمام رہنماؤں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذاتی مایوسیوں سے آگے بڑھ کر عوامی ذمہ داریوں کو ترجیح دیں۔




