صاحب! ہمیں ریاستی درجہ نہیں چاہیے، بالکل بھی نہیں چاہیے……. اللہ میاں کی قسم، اگر اس کے لیے ہمیں مودی جی اور امت بھائی شاہ کا سر‘ہمارا مطلب ہے پاؤں بھی پکڑنے پڑیں تو ہم تیار ہیں…….گوکہ ہمیں ریاستی درجہ دینا ان حضرات کے پانچ سالہ پلان میں کہیں موجود بھی نہیں ہے، لیکن کیا معلوم کہ کبھی یہ کسی بہکاوے میں آجائیں اور ریاستی درجے کی بحالی کا اعلان کریں……. بالکل اسی طرح جس طرح انہوں نے چوری چوری، چپکے چپکے ہمارا ریاستی درجہ چھین بھی لیا……. ایسے کسی امکان کی بیچ راستے ہی ٹانگیں توڑنے کے لیے، صاحب، ہم کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، تاکہ جموں و کشمیر، یو ٹی ہی رہے، یہ کبھی ریاست نہ بن جائے……. بالکل بھی نہ بن جائے…….اللہ میاں کی قسم، یہ تو اللہ میاں کا کرم اور مودی جی اور امت بھائی شاہ کی مہربانی ہے کہ جموں و کشمیر ایک ریاست نہیں بلکہ یو ٹی ہے کہ……. کہ یو ٹی کی کابینہ میں جگہ نہ ملنے پر حکمران جماعت کے کچھ ممبران اسمبلی کا یہ حال تھا……. بے حال تھا، اگر جموں و کشمیر یو ٹی نہ ہوتا، ایک مکمل ریاست ہوتا تو ہمیں نہ جانے کتنے لوگوں کا جنازہ اٹھانا پڑتا……. کتنے اللہ میاں کو حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے پیارے ہوتے اور…….اور اس لیے ہوتے کہ انہیں کرسی سے پیار ہے……. کرسی، وزیر کی کرسی کے بغیر ان کا جینا دشوار ہے، اس لیے حکمران جماعت میں ان کا مزید بنے رہنا بے کار ہے…….یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں، ان نامردوں……. معاف کیجیے، ہاتھ پھسل گیا……. ان نامرادوں کے چیلے چانٹے ایسا کہہ رہے ہیں، یا انہیں ایسا کہنے کو کہا جا رہا ہے۔چچا غالب یہ کہہ کے گئے ہیں کہ عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب……. دل کا کیا رنگ کروں، خونِ جگر ہونے تک……. اور حکمران جماعت کے لارمی صاحب کی آنکھوں سے جو خونِ جگر بہہ رہا تھا، اسے دیکھ کر ہمیں رشک ہوا……. اپنے ساگر……. علی محمد ساگر کی قسمت پر رشک ہوا کہ اب انہیں کہاں ہونا چاہیے تھا اور یہ جناب کہاں ہیں……. انہیں وہاں ہونا چاہیے تھا جہاں سارے سرکاری ملازمین، افسر سے لے کر چپراسی تک، ریٹائرمنٹ کے بعد ہوتے ہیں اور پہلی صف میں ہوتے ہیں، اور ایک ساگر ہیں کہ……. کہ ان کی پیاس اب بھی بجھ نہیں پا رہی ہے……. اور انہیں دیکھ کر اگر مبارک گل کا چراغ جیسا چہرہ گل ہوگیا تو اس میں ان کی کیا خطا کہ……. کہ اگر کسی کی خطا ہے تو……. تو اس کرسی کی ہے، جس کے بارے میں اپنے گورے گورے بانکنے چھورے‘وزیرا علیٰ کہتے رہتے ہیں کہ اس کی ایک دو ٹانگیں ٹوٹی ہوئی ہیں……. اچھا ہے کہ ٹوٹی ہوئی ہیں کہ اگر سلامت ہوتیں تو آج بہت سارے سلامت نہیں رہتے، بالکل بھی نہیں رہتے۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔



