واشنگٹن، 6 اکتوبر (یو این آئی) امریکہ اور مغربی نصف کرہ کے نو دیگر ممالک نے منگل کو خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی مبینہ دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دیگر ’مضر اثرات‘ کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تعاون مضبوط کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
امریکہ، ارجنٹینا، کینیڈا، کولمبیا، کوسٹا ریکا، ڈومینیکن ریپبلک، گیانا، پیراگوئے، پیرو اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو کی حکومتوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی سرگرمیوں میں مہلک سازشیں، غیر قانونی طور پر فنڈز جمع کرنا، سیاسی مداخلت اور بیرونی اثر و رسوخ کی کارروائیاں شامل ہیں۔
بیان میں ایران اور اس کے اتحادیوں پر دہشت گرد نیٹ ورک مضبوط کرنے، اپنے مبینہ مخالفین کو دباؤ میں لانے، قانونی یا انتظامی عمل کو متاثر کرنے اور علاقائی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کا بھی الزام عائد کیا گیا۔
ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا، ’’اسلامی جمہوریہ ایران اور اس کے اتحادیوں کو یہ کارروائیاں فوری طور پر روک دینی چاہئیں۔‘‘
یہ بیان گزشتہ ماہ امریکہ اور پیراگوئے کی مشترکہ میزبانی میں منعقدہ ’انسداد بین الاقوامی دہشت گردی فورم‘ کے بعد جاری کیا گیا۔ واشنگٹن کے مطابق فورم کا مقصد مغربی نصف کرہ کے ممالک کے درمیان قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو مضبوط کرنا اور ایرانی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ یہ فورم ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون بڑھانے اور مغربی نصف کرہ کی سلامتی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
ممالک نے خطے کی حکومتوں کی جانب سے ایرانی سرگرمیوں، بالخصوص ان کے بقول مہلک سازشوں، کے خلاف اقدامات کا خیرمقدم کیا اور خطرے سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات، بہتر رابطہ کاری اور تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
تاہم مشترکہ بیان میں ایران یا اس کے اتحادیوں کے خلاف کسی نئی پابندی یا دیگر ٹھوس اقدامات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔






