میں کہہ رہا ہوں کہ کیا اُن ننھے منھے بچوں کے والدین کو کوئی شرم نہیں آئی، جنہوں نے حکومت سے مانگ… مانگ نہیں، گزارش۔ ہاں، جنہوں نے حکومت سے گزارش کی کہ مائی باپ! اب جبکہ موسم بتدریج ٹھنڈا ہو رہا ہے، صبح اور شام کے وقت ٹھنڈ بڑھ رہی ہے، اس میں اضافہ ہو رہا ہے… اس لیے اگر جان کی پناہ ہو تو یہ عرض ہے کہ اسکولوں کے اوقاتِ کار تبدیل کیے جائیں، تاکہ ننھے منھوں کو ٹھنڈ میں گھر سے نہ نکلنا پڑے۔ایسی ہمت اور جسارت کرنے سے پہلے ان والدین کو ایک نہیں بلکہ ایک ہزار بار سوچنا چاہیے تھا کہ وہ… وہ چھوٹا منہ، بڑی بات… اتنی بڑی بات کیسے کر سکتے ہیں کہ… کہ یہ ان کا منڈیٹ ہی نہیں۔ اس درخواست کو داخلِ دفتر کرنے کا ان کا کوئی حق نہیں ہے اور… اور اس لیے نہیں ہے کیونکہ ان کی سمجھ میں یہ بات آ جانی چاہیے تھی، اور پہلے دن سے آ جانی چاہیے تھی، کہ ان کے ننھے منھے سرکار کی ترجیح نہیں ہیں… سرکار کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔کہ پہلی ترجیح وہ درباری ہیں جو دربار کی وجہ سے چھ ماہ تک ہمارے حصے میں آتے ہیں اور ہمارے حصے کا سکون اور چین غارت کر دیتے ہیں کہ… کہ کسی بھی حکومت کی اولین ترجیح ان درباریوں کا آرام ہوتا ہے… سرکار پہلے اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ یہ سب درباری بغیر کسی پریشانی کے محل نما گھر سے سیکریٹریٹ اور سیکریٹریٹ سے گھر پہنچ جائیں۔اور یہ ایک بات ان ننھے منھوں کے والدین کو سمجھ میں آ جانی چاہیے تھی… آ گئی ہوتی تو… تو اللہ میاں کی قسم، یہ ایسی گستاخانہ گزارش سرکار سے کرتے ہی نہیں، بالکل بھی نہیں۔اس لیے ہم ایسے والدین سے کہتے ہیں، ان کو مطلع کرتے ہیں کہ جناب! اسکولوں کے اوقاتِ کار میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، بالکل بھی نہیں آئے گی… اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک حکومت کے یہ معزز مہمان ایک ایک کر کے اس سرد پتھری سے گرم پتھری کی جانب رخ نہیں کرتے۔ایک بار انہوں نے گرم پتھری کی جانب رخ کیا تو حکومت بغیر کوئی وقت ضائع کیے… والدین کی کسی گزارش کا انتظار کیے بغیر ہی اوقات بدل دے گی… کہ فی الحال سرکار کی ساری کی ساری مامتا ان خاص درباریوں کے لیے ہی مخصوص ہے… آپ کے ننھے منھے بچوں کے لیے نہیں… بالکل بھی نہیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔



