ایوان کو مجموعی طور پر ممبران سے۶۴۶ سوالات موصول ہوئے‘۷۹توجہ دلاؤ نوٹس ملے جن میں سے ۵۶ کو منظوری دی گئی
سرینگر؍۳۰ ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا دس روزہ خزاں اجلاس بدھ کے روز ایوان کی کارروائی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے جانے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔
بدھ کو تقریباً سات گھنٹے جاری رہنے والی کارروائی کے بعد اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے ایوان کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔
اسپیکر نے بتایا کہ دس روز کے دوران اسمبلی کے سات اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مجموعی طور پر۲۵ گھنٹے کارروائی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ایوان کو مجموعی طور پر۶۴۶ سوالات موصول ہوئے، جن میں۳۲۸ سوالات ستارہ زدہ تھے۔اسپیکر کے مطابق۶۲۵ سوالات فہرست میں شامل کیے گئے، ایک سوال واپس لے لیا گیا جبکہ۲۵ سوالات مسترد کردیے گئے۔
راتھر نے بتایا کہ ایوان کو توجہ دلاؤ نوٹس کے۷۹ معاملات موصول ہوئے، جن میں سے۲۳ مسترد کیے گئے جبکہ۵۶ کو منظوری دی گئی۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دو قراردادیں پیش کی گئیں اور دونوں منظور کرلی گئیں۔ نجی ارکان کی جانب سے۷۰ قراردادیں موصول ہوئیں، جن میں سے سات کو فہرست میں شامل کیا گیا، جبکہ ایک قرارداد ایوان میں پیش کی گئی لیکن منظور نہیں ہوسکی۔
اسپیکر نے بتایا کہ حکومت نے آٹھ بل پیش کیے، جن میں سے چھ منظور کرلیے گئے جبکہ دو بل واپس لے لیے گئے۔راتھر نے کہا کہ نجی ارکان کے۴۹ بل زیر التوا تھے، جبکہ۲۳ نئے بل پیش کیے گئے، جن میں سے ایک کو مسترد کردیا گیا۔ ان میں سے ایک بل ایوان میں زیر بحث لایا گیا۔
ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسپیکر نے کہا، ’’بحیثیت پریزائیڈنگ افسر میرا کام یہ ہے کہ آپ کو مواقع فراہم کروں تاکہ آپ عوام کے مسائل ایوان میں اٹھا سکیں۔ میں نے پہلے ہی دن کہا تھا کہ میری کوشش ہوگی کہ کوئی بھی رکن یہ محسوس نہ کرے کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔ جس دن میں منتخب ہوا، میں نے کہا تھا کہ اب میرا تعلق کسی جماعت سے نہیں ہے اور میں بغیر کسی تعصب کے اپنی ذمہ داری انجام دوں گا۔ میں نے اپنی استطاعت کے مطابق غیر جانب دار رہنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
ارکان سے اپنی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے راتھر نے کہا کہ انہوں نے محسوس کیا ہے کہ زیادہ تر ارکان ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنا نہیں چاہتے، تاہم ’’ممکن ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے ان پر کارروائی میں خلل ڈالنے کے لیے دباؤ ہو۔‘‘
اسپیکر نے مزید کہا، ’’میں اجلاس کے ہر لمحے کو بروئے کار لانے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ میں آپ کی کوششوں کو سراہتا ہوں۔ عوام نے آپ کو منتخب کرکے درست فیصلہ کیا ہے۔‘‘اسپیکر نے مستقبل میں بھی ارکان سے تعاون کی اپیل کی۔
راتھر نے کہا، ’’میں آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ اگر حکومت کسی یقین دہانی کو پورا نہیں کرتی تو میرے علم میں لائیں۔ حکومت اس ایوان کے سامنے جوابدہ ہے۔ جب حکومت جوابدہ ہوتی ہے تو ایوان کا وقار برقرار رہتا ہے۔‘‘
اپنی برطرفی کے لیے اپوزیشن بی جے پی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے راتھر نے کہا کہ وہ اپنے کردار پر ہونے والی بحث سے خوش ہیں کیونکہ ’’اس سے مجھے اپنی خامیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘انہوں نے کہا، ’’میں نے عدم اعتماد کی تحریک کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے، لیکن میں نے ایک تبصرہ پڑھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تحریک ازخود ختم ہوجاتی ہے۔ قواعد کے مطابق کسی تحریک کو کارروائی کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کم از کم۱۴ دن درکار ہوتے ہیں۔۱۴ دن کے بعد اسمبلی کا کوئی اجلاس نہیں ہوگا۔‘‘
راتھر نے بتایا کہ انہوں نے قانون ساز اسمبلی کے سیکریٹری سے بھی کہا ہے کہ ایسا راستہ تلاش کیا جائے جس سے یہ تحریک ازخود ختم نہ ہو۔انہوں نے کہا، ’’میں نے ان سے کہا ہے کہ اس معاملے پر قانونی رائے کے لیے اسے محکمہ قانون کو بھی بھیجا جائے۔ میں تمام ارکان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے میں میری مدد کریں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ تحریک ایوان میں آئے، لیکن صرف قواعد کے مطابق۔‘‘
۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









