سرینگر؍۳۰ ستمبر
مرکزی وزارت داخلہ نے بدھ کے روز کہا کہ لشکر طیبہ کے سینئر کمانڈر محمد آصف عرف ’’موسیٰ‘‘ کی بڈگام میں ایک مسلح جھڑپ کے دوران ہلاکت سے جموں و کشمیر میں پاکستان میں قائم اس عسکریت پسند تنظیم کے نیٹ ورک کو ’’سنگین دھچکا‘‘ پہنچا ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق فوج اور دیگر مرکزی سکیورٹی ایجنسیاں طویل عرصے سے موسیٰ کا تعاقب کررہی تھیں۔ تکنیکی اور انسانی انٹیلی جنس سے علاقے میں اس کی نقل و حرکت اور موجودگی کے بارے میں معلومات ملنے کے بعد اسے پکڑنے کے لیے ایک مخصوص منصوبہ تیار کیا گیا۔
وزارت کے مطابق موسیٰ، جسے آصف فوجی کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، منگل کے روز بڈگام ضلع کے خانصاحب پولیس اسٹیشن کے علاقے گوروت کلان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی کے دوران مارا گیا۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے موسیٰ کو ہلاک کیے جانے سے جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں لشکر طیبہ کے نیٹ ورک کو سنگین دھچکا پہنچا ہے۔‘‘
وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ موسیٰ کی ہلاکت کے ساتھ ہی لشکر طیبہ کے وہ چاروں اعلیٰ کمانڈر بھی مارے جاچکے ہیں جو۲۰۲۲سے جموں و کشمیر میں سرگرم تھے۔
وزارت کے بیان کے مطابق مذکورہ گروپ متعدد حملوں میں ملوث رہا ہے، جن میں اگست۲۰۲۳ کا ہالان حملہ، دسمبر۲۰۲۳ کا ڈی کے جی حملہ، مئی۲۰۲۳ کا کنڈی حملہ، مئی۲۰۲۴ کا شاہ ستار حملہ، جون۲۰۲۴ کا شیو کھوری حملہ، اکتوبر۲۰۲۴ کے گگن گیر اور بوتاپتھری حملے اور اپریل۲۰۲۵ کا بائسرن حملہ شامل ہیں۔
اس دوران حکام نے بدھ کے روز بتایا کہ وہ پاکستان آرمی کے ایلیٹ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کا سابق حوالدار تھا اور ماضی میں پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے سکیورٹی قافلے میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔
محمد آصف، عرف ہاشم موسیٰ، کو منگل کی رات دیر گئے یوسمرگ کے کوراگ کے بالائی علاقے میں فوج اور دیگر سکیورٹی فورسز کی مشترکہ کارروائی کے دوران ہلاک کیا گیا۔
حکام کے مطابق پاکستانی دہشت گرد گزشتہ چند برسوں کے دوران متعدد ہائی پروفائل حملوں میں ملوث تھا، خصوصاً گزشتہ تین برسوں میں جب فوجی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف گھات لگا کر حملوں اور کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
یہ سلسلہ۲۰۲۳ کے اوائل میں پیر پنجال کے پہاڑی سلسلے سے شروع ہوا اور اپریل۲۰۲۵کے پہلگام واقعے تک جاری رہا، جس میں آصف نے مبینہ طور پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس حملے میں۲۶ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
آصف، جو فوجی اور سلیمان شاہ جیسے القابات سے بھی سرگرم تھا‘۲۰۲۱میں جموں و کشمیر میں دراندازی کرکے داخل ہوا تھا اور خطے میں لشکرِ طیبہ کے چیف آپریشنز کمانڈر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
سکیورٹی حکام نے بتایا کہ اس کی ہلاکت سے نہ صرف تقریباً پانچ سال سے جاری ایک وسیع آپریشن کا اختتام ہوا بلکہ خطے میں پاکستان میں قائم اس دہشت گرد تنظیم کی قیادت بھی متاثر ہوئی ہے۔
پاکستانی فوج میں۲۳ سالہ ملازمت کے دوران آصف نے۱۸ سال اسپیشل سروسز گروپ میں گزارے۔۲۰۰۲ سے ۲۰۰۸کے درمیان اسے پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کی سکیورٹی ٹیم میں تعینات کیا گیا تھا۔
اپنی ملازمت کے دوران اس نے امریکہ میں وی وی آئی پی سکیورٹی سے متعلق خصوصی تربیت حاصل کی اور امریکی اسپیشل فورسز کے ساتھ طبی تربیتی کورسز بھی مکمل کیے۔
فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد آصف‘کو دہشت گردی سے وابستہ نیٹ ورکس نے پہلے اپنے کارکنوں کو تربیت دینے کے لیے منتخب کیا اور بعد میں اسے جموں و کشمیر میں داخل کرکے لشکرِ طیبہ کی کارروائیوں کی قیادت سونپی گئی۔
حکام کے مطابق آصف رواں ماہ بڈگام، ادھم پور اور ڈوڈہ اضلاع میں الگ الگ بلند پہاڑی علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والا پانچواں پاکستانی دہشت گرد ہے، جس سے وادی میں سرگرم دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
اس کا قریبی ساتھی یاسر۵ ستمبر کو یوسمرگ کے بالائی علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران مارا گیا تھا، تاہم آصف اس وقت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اس کے علاوہ کالعدم جیشِ محمد کے دو مطلوب دہشت گرد، صدام اور مصطفیٰ‘۱۷ ستمبر کو ادھم پور کے مجلتا جنگلات میں مارے گئے تھے۔ایک اور جیشِ محمد کمانڈر کی لاش۱۲ ستمبر کو ڈوڈہ ضلع کے سیوج دھار جنگل سے برآمد ہوئی تھی۔
منگل کی کارروائی کے بارے میں فوج کی چنار کور نے بتایا کہ چوکس اہلکاروں نے علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت دیکھی۔ اہلکاروں کی جانب سے للکارے جانے پر دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد شدید مسلح جھڑپ ہوئی اور آصف مارا گیا۔
فوج نے بدھ کی صبح ایکس پر بتایا، ’’جاری کارروائی کے سلسلے میں جنرل ایریا پالمیدان میں صبح سویرے تلاشی کے دوران پاکستان میں مقیم لشکرِ طیبہ کے دہشت گرد محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش جنگی نوعیت کے سامان کے ساتھ برآمد کرلی گئی۔ کارروائی جاری ہے۔‘‘
حکام نے اس کارروائی کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آصف سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے خلاف ایک درجن سے زائد بڑے حملوں میں براہِ راست ملوث تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










