سری نگر؍۳۰ستمبر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ بھارتی فوج نہ صرف بیرونی خطرات سے ملک کا دفاع کرنے والی فورس کے طور پر ابھری ہے بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی بنی ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہ بات آپریشن درشٹی کے تحت منعقد کیے گئے۱۱ ویں میگا آئی سرجری کیمپ کی اختتامی تقریب میں شرکت کے دوران کہی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ آپریشن درشٹی خدمت، ہمدردی، حوصلے اور عزم کی عملی مثال ہے۔
سنہا نے بتایا کہ سری نگر میں منعقدہ کیمپ کے دوران۱۴۴ کامیاب آپریشن کیے گئے، جبکہ کپواڑہ ضلع کے تنگدھر میں منعقدہ کیمپ سرحدی علاقے میں پہلے میگا آئی سرجری کیمپ کے طور پر ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
ایل جی نے کہا کہ دشوار گزار جغرافیائی حالات اور مسلسل خطرے کے باوجود ڈاکٹروں اور فوجی اہلکاروں نے زیر زمین آپریشن تھیٹر قائم کیا اور صرف دو دن میں۲۲۰ مریضوں کی بینائی بحال کی۔
سنہا نے کہا، ’’جن لوگوں نے تنگدھر کے جغرافیائی حالات دیکھے ہیں، وہ سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں امداد پہنچانا بھی اپنے آپ میں ایک چیلنج ہے۔ پہاڑ عبور کرنے پڑتے ہیں، دشوار گزار علاقوں سے گزرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات خطرے کے باوجود آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود اسی مشکل اور غیر یقینی ماحول میں بریگیڈیئر سنجے مشرا کی قیادت میں ہمارے ڈاکٹروں اور بہادر فوجیوں نے امید کا ایک مرکز قائم کیا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ جدید جراحی آلات فضائی راستے سے تنگدھر پہنچائے گئے، جس سے ایسے علاقے میں آنکھوں کے جدید علاج کی سہولت ممکن ہوئی جہاں ماضی میں اس طرح کی طبی سہولیات کا تصور بھی مشکل تھا۔
خاورپورہ، ٹنگڈار، بگ بیلہ اور آس پاس کے دیہات سے تعلق رکھنے والے مریضوں نے کیمپ سے فائدہ اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’یہ حقیقی حوصلے، فرض سے وابستگی اور خدمت کے حقیقی مفہوم کی عکاسی ہے۔ اس پوری کوشش نے ایک بات ثابت کردی ہے کہ جہاں عزم مضبوط ہو وہاں کوئی مشکل، خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، بھارتی فوج کی انسانی خدمت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘انہوں نے کہا کہ سری نگر اورٹنگڈار میں کیے گئے مجموعی۳۶۴ آپریشن محض طبی اعداد و شمار نہیں بلکہ لوگوں کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بھارتی فوج کے ڈاکٹروں کی قیادت میں کیا گیا ہر آپریشن بحال ہونے والی عزتِ نفس اور دوبارہ پیدا ہونے والی امید کی ایک داستان بن گیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے بتایا کہ قومی سطح پر آپریشن درشٹی کے تحت۱۰ شہروں میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کی آنکھوں کا معائنہ کیا جاچکا ہے جبکہ۳۵۰۰سے زیادہ آپریشن کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپریشن درشٹی نے فوج اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ بھارتی فوج محض دفاعی فورس نہیں بلکہ ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔
ایل جی نے معاون عملے، فضائیہ کے پائلٹوں اور ان فوجی اہلکاروں کے حوصلے کو سراہا جنہوں نے طبی آلات منتقل کیے، زیر زمین آپریشن تھیٹر تیار کیے اور نامساعد حالات میں پیچیدہ آپریشنز کو یقینی بنایا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’بھارتی فوج صرف ایسی فورس نہیں جو ملک کو بیرونی خطرات سے بچاتی ہے بلکہ ضرورت کے وقت جموں و کشمیر کے عام شہریوں کے لیے مدد، ہمدردی اور شفا کا ذریعہ بھی ہے۔ بینائی بحال کرکے فوج نے مریضوں کو امن، اعتماد اور باہمی یکجہتی کا ایک نیا وژن دیا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ سری نگر میں منعقد ہونے والا۱۱واں کیمپ اختتام نہیں بلکہ اس سفر کا تسلسل ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ آپریشن درشٹی ملک بھر کے مزید دیہات اور قصبوں تک پہنچے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ معیاری طبی سہولیات صرف بڑے شہروں تک محدود نہ رہیں۔
سنہا نے کہا کہ تنگدھر میں منعقدہ کیمپ ملک کے دور دراز علاقوں کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’آپریشن درشٹی کا تجربہ ہمیں اعتماد دیتا ہے کہ عزم، بہتر منصوبہ بندی اور ہمدردی کے ساتھ جدید طبی سہولیات ملک کے ہر کونے تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔ یہی ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس‘ کا عزم ہے اور معزز وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ کوئی شہری پیچھے نہ رہ جائے۔‘‘
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے کیمپ کے دوران گراں قدر خدمات انجام دینے والے دفاعی افواج کے ڈاکٹروں اور طبی عملے کو اعزاز سے نوازا۔انہوں نے مستفید ہونے والے افراد میں آپریشن کے بعد استعمال ہونے والی طبی کٹس بھی تقسیم کیں۔
اختتامی تقریب میں لیفٹیننٹ جنرل بلبیر سنگھ، جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) چنار کور؛ بریگیڈیئر سنجے کمار مشرا، سینئر کنسلٹنٹ اور شعبہ امراضِ چشم، آرمی ہسپتال آر اینڈ آر کے سربراہ؛ بریگیڈیئر بی وی راؤ، کمانڈنٹ۹۲ بیس ہسپتال، اور سول و دفاعی محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










