جمعرات, اکتوبر 1, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’ سوشل میڈیا صحافیوں کو ضابطے میں لانے کے لیے رہنما اصول مرتب کیے جائیں گے‘

نئی میڈیا پالیسی پر کام جاری؛ اسمبلی میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال، سنسرشپ اور سیاسی جماعتوں کے کردار پر ارکان کا اظہارِ خیال

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-10-01
in اہم ترین, تازہ تریں, ٹاپ سٹوری, مقامی خبریں
A A
ہندوستانی صارفین سوشل میڈیا پر۳گھنٹے سے زیادہ گزارتے ہیں‘ گیمنگ پرروزانہ۴۶ منٹ : رپورٹ
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

سرینگر؍۳۰ستمبر

                 جموں و کشمیر حکومت سوشل میڈیا صحافیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ضابطے میں لانے کے لیے نئی میڈیا پالیسی مرتب کر رہی ہے۔

                بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں نئے رہنما اصول وضع کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ

جموںکشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس اختتام پذیر

’موسیٰ کی ہلاکت سے جموں و کشمیر میں لشکر طیبہ کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا‘

                نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی بشیر ویری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی ایوان کی کمیٹی نے محکمہ اطلاعات کو نئے رہنما اصول تیار کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا ہے۔ سکینہ ایتو نے بتایا کہ سینئر رکن اسمبلی اور سابق وزیر علی محمد ساگر کی سربراہی میں ایوان کی کمیٹی کا اجلاس۱۳ جولائی۲۰۲۶  کو منعقد ہوا تھا۔

                کئی ارکان نے سوشل میڈیا صحافیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت رہنما اصول وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔

                اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ انہوں نے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت سے میڈیا کے کام کاج کا جامع جائزہ لینے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کو کہا تھا۔

                نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نذیر گوریزی نے کہا کہ آج کل کوئی بھی شخص موبائل فون اٹھا کر صحافی بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس کے بعد سوشل میڈیا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کچھ ضابطہ ہونا چاہیے۔‘‘

                پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا، ’’ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور سنسرشپ کا مطالبہ کرنا درست بات نہیں ہے۔‘‘

                سکینہ ایتو نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران اس معاملے پر نصف گھنٹے تک بحث ہوئی تھی اور اس وقت حکومت نے اپنا جواب بھی دیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’میڈیا کے بغیر، خواہ وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، ہم نامکمل ہیں؛ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن، جناب، اس وقت کچھ خامیاں ضرور ہیں، اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

                وزیر نے کہا کہ موبائل فون کے موجودہ دور میں ارکان اسمبلی بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں ہر چیز کی تصاویر لینے کے لیے اپنے قریبی لوگوں کو اپنے اردگرد رکھتے ہیں تاکہ بعد میں وہ تصاویر باہر شائع کی جاسکیں۔ ہم سارا الزام صرف میڈیا اہلکاروں پر نہیں ڈال سکتے۔‘‘

                ایتو نے ایوان کو بتایا کہ ایک رکن نے اپنی اہلیہ کی گھریلو ملازمہ کے نام سے سوشل میڈیا صفحہ قائم کر رکھا ہے۔

                موصوفہ نے کہا، ’’کچھ معزز ارکان ہیں، میں نام نہیں لوں گی، ایک معزز رکن نے اپنی اہلیہ کی ملازمہ کے نام سے ایک صفحہ بنایا ہے۔ اگر آپ اس صفحے کو دیکھیں تو حقیقتاً میرا خیال ہے کہ شیطان بھی شرمندہ ہوجائے۔ اس صفحے پر جو کچھ لکھا گیا ہے، جس طرح تنقید کی گئی ہے اور وزراء کے خلاف جس قسم کی نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔۔۔ اگر یہ سب قابل قبول سمجھا جائے تو پھر ہم یہاں کھڑے ہوکر سارا الزام صرف میڈیا پر کیسے ڈال سکتے ہیں؟‘‘

                انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کیچڑ اچھالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔

                وزیر نے کہا، ’’جو لوگ موبائل اور فیس بک میڈیا بن گئے ہیں، وہ جب چاہیں کسی کی بھی کردار کشی پر اتر آتے ہیں اور کسی شخص کی عزت کو مجروح کرنے میں دو منٹ سے بھی کم وقت لیتے ہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے تو وہ سیاسی جماعتیں ہیں۔‘‘انہوں نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا صفحات کا بھی حوالہ دیا۔

                 ایتو نے کہا، ’’آپ دیکھیں گے کہ کس طرح کسی فرد کی عزت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ اور پھر آپ کہتے ہیں کہ میڈیا سے وابستہ ہمارے بھائی غلط ہیں۔ وہ بھی غلط ہوسکتے ہیں، میں اس سے انکار نہیں کرتی، کیونکہ آج کل مستند اور تسلیم شدہ صحافیوں کی تعداد کم ہے، جبکہ خود ساختہ فیس بک میڈیا صفحات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘‘

                وزیر نے تجویز دی کہ ارکان اسمبلی اور صحافیوں کو ایوان کے اندر موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ محکمہ اطلاعات ایک جامع پالیسی متعارف کرائے گا، جس میں قواعد و ضوابط اور مناسب جانچ پڑتال کا نظام شامل ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’اس کے بعد اگر کوئی شخص بدعنوانی یا غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘

                موصوفہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے غلط، گمراہ کن یا من گھڑت معلومات پھیلاتا پایا گیا تو اس کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ ‘ بھارتیہ نیائے سنہتا۲۰۲۳؍اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا۲۰۲۳کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔

                انہوںنے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر محکمہ داخلہ نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی نگرانی اور کنٹرول میں جموں و کشمیر سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر  قائم کیا ہے، جو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سائبر جرائم کی روک تھام، نشاندہی اور تحقیقات کے لیے کوششوں میں تال میل پیدا کرے گا۔

                ان کے مطابق محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی باقاعدگی سے نگرانی اور جانچ کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جعلی اور گمراہ کن خبروں کی نگرانی کا خصوصی نظام بھی قائم ہے۔

                انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کوئی خبر جعلی یا گمراہ کن پائی جاتی ہے، محکمہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے فوری طور پر اس کی تردید جاری کرتا ہے۔ایسی تردیدیں اخبارات کے فوری اگلے شمارے میں اشاعت کے لیے بھی بھیجی جاتی ہیں اور ڈی آئی پی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔

                موصوفہ نے مجوزہ جموں و کشمیر میڈیا پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جعلی خبروں، سرقہ اور غیر اخلاقی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے متعلق مواد کی نگرانی کے علاوہ بعض معاملات میں میڈیا اداروں کی فہرست سے اخراج یا سرکاری اشتہارات روکنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ایل جی سنہا کی آپریشن درشٹی کی اختتامی تقریب میں شرکت

Next Post

اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی قرارداد کیخلاف بی جے پی کا احتجاج

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

شور شرابے اور ہنگامہ آرائی کے بیچ اسمبلی کا بجٹ اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی
اہم ترین

جموںکشمیر اسمبلی کا خزاں اجلاس اختتام پذیر

2026-10-01
’جموں کشمیر میں گزشتہ تین برسوں میں حالات کافی مستحکم ہو ئے ہیں‘
اہم ترین

’موسیٰ کی ہلاکت سے جموں و کشمیر میں لشکر طیبہ کے نیٹ ورک کو بڑا دھچکا‘

2026-10-01
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح
اہم ترین

اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی قرارداد کیخلاف بی جے پی کا احتجاج

2026-10-01
جموں و کشمیر کی ترقی کیلئےاسٹارٹ اپ کلچر پر توجہ ضروری:ایل جی سنہا
اہم ترین

ایل جی سنہا کی آپریشن درشٹی کی اختتامی تقریب میں شرکت

2026-10-01
ساسکی اسکیم پر وحید پرہ نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا 
اہم ترین

پرہ کی چیف سیکریٹری اور  سیکریٹری قانون کے خلاف  مراعاتِ ایوان کی تحریک

2026-10-01
سجاد لون کے فیصلے سے بی جے پی کے ست شرمہ کو فائدہ؟
اہم ترین

اسمبلی میں ای ڈبلیو ایس  اسنادمیں علاقائی تفاوت  پر سجاد لون کے سوالات

2026-10-01
وزیر اعظم مودی کا حماس ،اسرائیل امن معاہدے کا خیر مقدم
اہم ترین

مودی اور ٹرمپ کے  درمیان ٹیلی فونک گفتگو، دوطرفہ تعاون پر پیش رفت کا جائزہ

2026-10-01
’عوامی مینڈیٹ سے غداری‘:بی جے پی کی این سی پر لینڈ گرانٹس بل کے حوالے سے تنقید
اہم ترین

شرما کا عمر عبداللہ پر  ریاستی حیثیت کی بحالی کی مانگ کو ’سبوتاژ‘ کرنے کا الزام

2026-10-01
Next Post
مغربی بنگال اورآسام اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی شاندار فتح

اسمبلی میں ریاستی حیثیت کی قرارداد کیخلاف بی جے پی کا احتجاج

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.