سرینگر؍۳۰ستمبر
جموں و کشمیر حکومت سوشل میڈیا صحافیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو ضابطے میں لانے کے لیے نئی میڈیا پالیسی مرتب کر رہی ہے۔
بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی کو بتایا گیا کہ اس سلسلے میں نئے رہنما اصول وضع کیے جا رہے ہیں۔
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی بشیر ویری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر سکینہ ایتو نے کہا کہ اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے قائم کی گئی ایوان کی کمیٹی نے محکمہ اطلاعات کو نئے رہنما اصول تیار کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت دیا ہے۔ سکینہ ایتو نے بتایا کہ سینئر رکن اسمبلی اور سابق وزیر علی محمد ساگر کی سربراہی میں ایوان کی کمیٹی کا اجلاس۱۳ جولائی۲۰۲۶ کو منعقد ہوا تھا۔
کئی ارکان نے سوشل میڈیا صحافیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت رہنما اصول وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے کہا کہ انہوں نے بجٹ اجلاس کے دوران حکومت سے میڈیا کے کام کاج کا جامع جائزہ لینے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کو کہا تھا۔
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نذیر گوریزی نے کہا کہ آج کل کوئی بھی شخص موبائل فون اٹھا کر صحافی بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا، ’’اس کے بعد سوشل میڈیا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے کچھ ضابطہ ہونا چاہیے۔‘‘
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا، ’’ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور سنسرشپ کا مطالبہ کرنا درست بات نہیں ہے۔‘‘
سکینہ ایتو نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران اس معاملے پر نصف گھنٹے تک بحث ہوئی تھی اور اس وقت حکومت نے اپنا جواب بھی دیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’میڈیا کے بغیر، خواہ وہ پرنٹ ہو یا الیکٹرانک، ہم نامکمل ہیں؛ اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ لیکن، جناب، اس وقت کچھ خامیاں ضرور ہیں، اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
وزیر نے کہا کہ موبائل فون کے موجودہ دور میں ارکان اسمبلی بھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہاں ہر چیز کی تصاویر لینے کے لیے اپنے قریبی لوگوں کو اپنے اردگرد رکھتے ہیں تاکہ بعد میں وہ تصاویر باہر شائع کی جاسکیں۔ ہم سارا الزام صرف میڈیا اہلکاروں پر نہیں ڈال سکتے۔‘‘
ایتو نے ایوان کو بتایا کہ ایک رکن نے اپنی اہلیہ کی گھریلو ملازمہ کے نام سے سوشل میڈیا صفحہ قائم کر رکھا ہے۔
موصوفہ نے کہا، ’’کچھ معزز ارکان ہیں، میں نام نہیں لوں گی، ایک معزز رکن نے اپنی اہلیہ کی ملازمہ کے نام سے ایک صفحہ بنایا ہے۔ اگر آپ اس صفحے کو دیکھیں تو حقیقتاً میرا خیال ہے کہ شیطان بھی شرمندہ ہوجائے۔ اس صفحے پر جو کچھ لکھا گیا ہے، جس طرح تنقید کی گئی ہے اور وزراء کے خلاف جس قسم کی نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔۔۔ اگر یہ سب قابل قبول سمجھا جائے تو پھر ہم یہاں کھڑے ہوکر سارا الزام صرف میڈیا پر کیسے ڈال سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو کیچڑ اچھالنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔
وزیر نے کہا، ’’جو لوگ موبائل اور فیس بک میڈیا بن گئے ہیں، وہ جب چاہیں کسی کی بھی کردار کشی پر اتر آتے ہیں اور کسی شخص کی عزت کو مجروح کرنے میں دو منٹ سے بھی کم وقت لیتے ہیں۔ اس معاملے میں اگر کوئی سب سے زیادہ ذمہ دار ہے تو وہ سیاسی جماعتیں ہیں۔‘‘انہوں نے سیاسی جماعتوں کی جانب سے چلائے جانے والے سوشل میڈیا صفحات کا بھی حوالہ دیا۔
ایتو نے کہا، ’’آپ دیکھیں گے کہ کس طرح کسی فرد کی عزت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جاتا ہے۔ اس پر کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ اور پھر آپ کہتے ہیں کہ میڈیا سے وابستہ ہمارے بھائی غلط ہیں۔ وہ بھی غلط ہوسکتے ہیں، میں اس سے انکار نہیں کرتی، کیونکہ آج کل مستند اور تسلیم شدہ صحافیوں کی تعداد کم ہے، جبکہ خود ساختہ فیس بک میڈیا صفحات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔‘‘
وزیر نے تجویز دی کہ ارکان اسمبلی اور صحافیوں کو ایوان کے اندر موبائل فون رکھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ محکمہ اطلاعات ایک جامع پالیسی متعارف کرائے گا، جس میں قواعد و ضوابط اور مناسب جانچ پڑتال کا نظام شامل ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’اس کے بعد اگر کوئی شخص بدعنوانی یا غیر پیشہ ورانہ طرز عمل کا مرتکب پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘
موصوفہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے غلط، گمراہ کن یا من گھڑت معلومات پھیلاتا پایا گیا تو اس کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ۲۰۰۰ ‘ بھارتیہ نیائے سنہتا۲۰۲۳؍اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا۲۰۲۳کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔
انہوںنے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر محکمہ داخلہ نے پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کی نگرانی اور کنٹرول میں جموں و کشمیر سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر قائم کیا ہے، جو مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سائبر جرائم کی روک تھام، نشاندہی اور تحقیقات کے لیے کوششوں میں تال میل پیدا کرے گا۔
ان کے مطابق محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی پی آر) کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کی باقاعدگی سے نگرانی اور جانچ کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے جعلی اور گمراہ کن خبروں کی نگرانی کا خصوصی نظام بھی قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی کوئی خبر جعلی یا گمراہ کن پائی جاتی ہے، محکمہ اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کے ذریعے فوری طور پر اس کی تردید جاری کرتا ہے۔ایسی تردیدیں اخبارات کے فوری اگلے شمارے میں اشاعت کے لیے بھی بھیجی جاتی ہیں اور ڈی آئی پی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔
موصوفہ نے مجوزہ جموں و کشمیر میڈیا پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جعلی خبروں، سرقہ اور غیر اخلاقی یا ملک مخالف سرگرمیوں سے متعلق مواد کی نگرانی کے علاوہ بعض معاملات میں میڈیا اداروں کی فہرست سے اخراج یا سرکاری اشتہارات روکنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔
۔۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










