سری نگر؍۲۸ ستمبر
جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیر کو وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے ریاستی حیثیت بحال کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد پر بی جے پی ارکان کے ہنگامے کے بعد چار ارکان کو مارشلز کے ذریعے ایوان سے باہر نکال دیا گیا۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر کی جانب سے کارروائی جاری رکھنے کے دوران بی جے پی ارکان نے ایوان کے وسط میں علامتی کارروائی شروع کردی، حالانکہ انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے پر کارروائی کی جائے گی۔
ہنگامے کے دوران قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے ’’دھوکے باز وزیراعلیٰ، کرسی چھوڑو، کرسی چھوڑو‘‘ کے نعرے لگائے۔
نیشنل کانفرنس کے ارکان نے اس پر ردعمل ظاہر کیا، جس کے نتیجے میں اپوزیشن اور حکومتی بنچوں کے درمیان نعرے بازی شروع ہوگئی۔
کانگریس ارکان نے بھی مرکز میں بی جے پی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، جن میں ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘ کے نعرے شامل تھے۔کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان لون نے ’’گینیش کمار استعفیٰ دو‘‘ تحریر والا بینر بھی اٹھا رکھا تھا۔
ہنگامہ جاری رہنے کے دوران نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے کہا کہ اسپیکر کو چاہیے کہ وہ قائد حزب اختلاف کو وزیراعلیٰ کے خلاف استعمال کی گئی ’’غیر پارلیمانی زبان‘‘ پر معافی مانگنے کی ہدایت دیں۔
انہوں نے کہا، ’’یہ کوئی سڑک نہیں ہے۔‘‘
بی جے پی ارکان نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور کانگریس ارکان پر مائیکروفون کے اسٹینڈ سے حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم اسمبلی کے مارشلز نے انہیں قابو کرلیا۔بی جے پی کے ارکان اسمبلی وکرم رندھاوا اور اروند گپتا کے ساتھ کانگریس کے ارکان اسمبلی عرفان لون اور افتخار احمد کو مارشلز کے ذریعے اسمبلی سے باہر نکال دیا گیا۔
نیشنل کانفرنس کے ارکان نے بی جے پی کے طرز عمل کے خلاف احتجاج کیا۔
اسپیکر نے کہا کہ عوام نے ارکان کو اسمبلی میں نعرے بازی کے لیے منتخب کرکے نہیں بھیجا ہے اور بی جے پی ارکان کو سخت کارروائی سے خبردار کیا۔انہوں نے کہا، ’’میں ان ارکان کے نام بتاؤں گا جو کارروائی میں خلل ڈال رہے ہیں اور سخت کارروائی کروں گا۔ لہٰذا نظم و ضبط برقرار رکھیں۔‘‘
تاہم بی جے پی ارکان نے اسپیکر کی نشست کی جانب بڑھنے کی کوشش کی۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )










