صاف نظر آ رہا ہے…. بالکل صاف کہ اپنے گورے گورے بانکے چھورے، عمر عبداللہ فرسٹریٹ ہو رہے ہیں…. ان کی سمجھ میں یہ نہیں آ رہا ہے کہ یہ کریں تو کیا کریں…. نہیں، ایسا نہیں ہے کہ انہیں کچھ بھی معلوم نہیں ہے…. انہیں کچھ بھی نہیں آتا ہے…. یہ نااہل ہیں…. اللہ میاں کی قسم، ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہے….اصل میں یہ فرسٹریٹ اس لیے ہو رہے ہیں کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان پر یہ حقیقت…. تلخ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے کہ…. کہ جو انہوں نے سوچا تھا، ایک دو سال پہلے سوچا تھا…. وہ ہونے سے رہا، یا وہ ہو نہیں رہا ہے، ان کی کوششوں کے باوجود بھی نہیں ہو رہا ہے…. وعدوں اور دعوؤں کے باوجود بھی نہیں ہو رہا ہے…. اور جو نہیں ہو رہا ہے، اس کا ہونا ان کے ہاتھ میں نہیں ہے…. بالکل بھی نہیں ہے۔بس، اس ایک بات نے اپنے وزیر اعلیٰ کو فرسٹریٹ کیا ہوا ہے…. سوچا تھا…. انہوں نے سوچا تھا کہ…. کہ وقت کے ساتھ ساتھ اُس کا بھی وقت آ ہی جائے گا، اور جب اُس کا وقت آ جائے گا تو آسانیاں ہوں گی…. کام آسان ہوتا چلا جائے گا…. لیکن صاحب، ایسی ان کی قسمت کہاں کہ….کہ ان کی باتوں سے…. اگر ان کی باتیں کسی بات کی چغلی کھا رہی ہیں تو…. تو اس بات کی کھا رہی ہیں کہ یہ تنگ آ گئے ہیں…. اور اس لیے آ گئے ہیں کیونکہ انہوں نے جو سوچا، اس کا ہونا دن بہ دن مشکل ہو رہا ہے…. سخت ہو رہا ہے…. اور یہ بات کسی کو بھی فرسٹریٹ کر سکتی ہے…. اپنے وزیر اعلیٰ کو بھی، جو اب آہستہ آہستہ اس فرسٹریشن کا اظہار کھلے عام کر رہے ہیں…. واضح الفاظ میں کر رہے ہیں…. سری نگر میں کر رہے ہیں، جموں میں کر رہے ہیں، حتیٰ کہ دہلی میں بھی اس کا اظہار کر رہے ہیں اور…. اور جمعہ کو سرینگر کی اسمبلی میں بھی ایک عدد قرارداد پیش کرکے اس کا اظہار کر ہی ڈالا….اس بات کا اظہار کہ یہ سچ میں فرسٹریٹ ہو رہے ہیں…. اب ان سے مزید نہیں ہو پا رہا ہے…. کوششوں کے بعد بھی نہیں ہو پا رہا ہے….اور جن لوگوں کوقرارداد پیش کرنے پر وزیر اعلیٰ کا غصہ ہے اور وہ غصے سے آگ بگولہ ہو رہے ہیں، انہیں اصل میں وزیر اعلیٰ پر ترس کھانا چاہیے…. اور سو فیصد کھانا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ سچ میں فرسٹریٹ ہو گئے ہیں۔ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










