نیویارک، 225 ستمبر (یو این آئی) یونانی وزیرِاعظم کریاکوس مِیچوتاکیس نے اپنے ملک کے ترکیہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کہا: "ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ایک ساتھ رہنا ہمارا مقدر ہے۔”
مِیچوتاکیِس نے اقوامِ متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں ترکیہ-یونان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا "گزشتہ تین سال سے ہم اپنے تعلقات کو بہتر کرنے، اعتماد قائم کرنے اور بات چیت کے راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہے ہیں، تاکہ کسی ناپسندیدہ بحران کا سبب بننے والی ممکنہ کشیدگی کا سد باب کیا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور یونان کے مابین ایک تاریخی وزن رکھنے والا حساس رشتہ موجود ہے اور جب علاقائی اور وسیع پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھا جائے تو اس بارے میں آگے کس طرح بڑھا جائے، اس پر فوری طور پر ایک مشترکہ فہم درکار ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ فہم بین الاقوامی قانون اور اچھےہمسایہ تعلقات کے احترام کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور "جیسا کہ میں نے کئی بار کہا ہے، ہم جغرافیہ تبدیل نہیں کر سکتے، ایک ساتھ رہنا ہمارا مقدر ہے۔”
میِچوتاکیِس نے دعویٰ کیا کہ ترکیہ اور یونان کے درمیان واحد تنازعہ خصوصی اقتصادی زون اور (continental shelf) کے تعین کا معاملہ ہے اور ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کا سمندری قانون کنونشن ہی واحد ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔
انہوں نے مسئلہ قبرص کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو نافذ کرنے کی صلاحیت کی آزمائش ہے۔
یونانی وزیرِاعظم نے مزیدکہا کہ وہ اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرِش کی مذاکرات کو ازسرِ نو شروع کرانے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔










