ہفتہ, ستمبر 26, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

دہشت گردی:ہند پاک میں سب سے بڑا مسئلہ

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-26
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان حالیہ لفظی کشمکش نے ایک بار پھر یہ حقیقت سامنے رکھ دی ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے بڑا مسئلہ محض کشمیر پر اختلاف نہیں بلکہ وہ دہشت گردی بھی ہے جس نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے جموں و کشمیر کی زندگی کو مسلسل متاثر کیا ہے۔ پاکستان نے کشمیر کے مسئلے کو بین الاقوامی فورموں پر اٹھانے کا سلسلہ کبھی ترک نہیں کیا، لیکن اس سے بھی زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ ہندوستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین اور اس کے زیر انتظام علاقوں سے دہشت گردی کے ڈھانچے نے جموں و کشمیر میں تشدد کو ہوا دی۔

                یہاں کسی تاریخی اختلاف کو نظرانداز کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ اگر پاکستان واقعی جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کا اتنا ہی خواہاں ہے تو گزشتہ۳۵ برسوں کے دوران اس نے اس خطے میں بندوق، تشدد اور دراندازی کو بڑھاوا دینے والی پالیسی سے کیا حاصل کیا؟ اس پالیسی کا سب سے بڑا نقصان خود کشمیری عوام کو اٹھانا پڑا۔ ہزاروں شہری، سیکورٹی اہلکار اور دیگر افراد دہشت گردی کی نذر ہوئے، خاندان اجڑے، کاروبار متاثر ہوئے، تعلیم کا سلسلہ ٹوٹا اور ایک پوری نسل نے خوف اور غیر یقینی کے ماحول میں زندگی گزاری۔

                وزارت داخلہ کے ریکارڈ کے مطابق صرف۱۹۹۰ سے۲۰۰۴ تک جموں و کشمیر میں دہشت گردی سے تقریباً۳۴ ہزار جانیں ضائع ہوئیں، جن میں۱۲ ہزار سے زیادہ عام شہری شامل تھے۔ بعد کے برسوں میں بھی تشدد کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔یہ اعداد صرف سرکاری جدول نہیں بلکہ اس انسانی المیے کی تصویر ہیں جس نے جموں و کشمیر کے معاشرے کو طویل عرصے تک اپنی گرفت میں رکھا۔

متعلقہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

                جموں و کشمیر نے دہشت گردی کے بدترین دور دیکھے ہیں۔ مسلح گروہوں نے سیاسی کارکنوں، سرکاری ملازمین، اقلیتی برادریوں، عام شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔ کشمیری پنڈتوں کی ہجرت اس خونریز دور کا ایک المناک باب ہے۔ اسی طرح وہ مسلمان خاندان بھی اس المیے سے محفوظ نہیں رہے جنہوں نے اپنے عزیز دہشت گردی میں کھوئے۔ اس لیے کشمیر کی تاریخ کو صرف ایک سیاسی تنازع کے طور پر دیکھنا اس کے انسانی المیے کو کم کرکے دیکھنے کے مترادف ہوگا۔

                گزشتہ سال کا پہلگام کا واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے یہ سوال دوبارہ سامنے رکھا کہ اگر جموں و کشمیر میں معمول کی زندگی بحال ہورہی ہے، سیاحت بڑھ رہی ہے، انتخابات ہو رہے ہیں اور عام شہری اپنی روزمرہ زندگی کی طرف واپس آ رہے ہیں تو کیا اس عمل کو دہشت گردی کے ذریعے دوبارہ پٹری سے اتارنے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟ کسی بھی سیاسی اختلاف کو دہشت گردی کے ذریعے زندہ رکھنا نہ صرف امن کے لیے خطرہ ہے بلکہ خود کشمیری عوام کے مفادات کے بھی خلاف ہے۔

                یہاں پاکستان کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ وہ آخر کب تک دہشت گردی اور کشمیر کو ایک ہی پالیسی کے دو پہلوؤں کے طور پر استعمال کرتا رہے گا؟ اگر اسلام آباد واقعی جنوبی ایشیا میں امن چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اس کی سرزمین یا اس کے زیر انتظام کوئی علاقہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ ہندوستان نے کئی مواقع پر پاکستان سے یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر عمل کرے۔

                پاکستان کے لیے یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ جموں و کشمیر میں امن کی موجودہ کوششیں محض سیکورٹی کارروائیوں تک محدود نہیں ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے، جمہوری عمل کو برقرار رکھنے اور تشدد کا راستہ ترک کرنے والوں کے لیے سیاسی عمل کے دروازے کھلے رکھنے کی پالیسی بھی اختیار کی گئی ہے۔

                اس لیے جنیوا جیسے عالمی فورم پر پاکستان اگر انسانی حقوق کا سوال اٹھاتا ہے تو اسے یہ بھی جواب دینا ہوگا کہ گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں میں دہشت گردی کے باعث ہونے والی شہری ہلاکتوں اور تباہی کی ذمہ داری سے وہ خود کو کس طرح الگ کرتا ہے۔ انسانی حقوق کا دفاع صرف اس وقت معتبر نہیں ہوسکتا جب اسے دوسرے ملک کے خلاف سفارتی دلیل کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انسانی جان کی حرمت کا اصول سرحد کے دونوں جانب یکساں ہونا چاہیے۔

                 دہشت گردی نے کشمیری عوام کو صرف لاشیں، خوف، ہجرت، تباہی اور معاشی نقصان دیا۔ اس کے باوجود اگر پاکستان اب بھی دہشت گردی کے ڈھانچوں کے خلاف واضح اور قابل اعتبار کارروائی کرنے کے بجائے عالمی فورموں پر ہندوستان کے خلاف سیاسی مقدمہ پیش کرنے کو ترجیح دیتا ہے تو اس سے خطے میں امن کا راستہ مزید مشکل ہی ہوگا۔

                جموں و کشمیر میں پائیدار امن صرف اس وقت مضبوط ہوسکتا ہے جب سرحد پار سے دہشت گردی کی حمایت اور دراندازی کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ رہ سکتے ہیں، کشمیر پر دونوں کے مؤقف بھی فوری طور پر تبدیل ہونے والے نہیں، لیکن دہشت گردی کو کسی بھی سیاسی مقصد کے حصول کا ذریعہ بنانے کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

                جنیوا میں تقریروں سے زیادہ اہم وہ فیصلے ہیں جو زمینی حقیقت تبدیل کریں۔ پاکستان اگر واقعی کشمیر اور کشمیری عوام کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہے تو اسے سب سے پہلے دہشت گردی کی اس پالیسی سے خود کو الگ کرنا ہوگا جس نے گزشتہ ساڑھے تین دہائیوں میں جموں و کشمیر کو خونریزی کے ایک طویل دور سے گزارا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر اختلاف ہوسکتا ہے، سیاسی دعوے ہوسکتے ہیں، سفارتی بحث بھی ہوسکتی ہے، لیکن دہشت گردی کو اس اختلاف کا ہتھیار بنانا کسی صورت امن کا راستہ نہیں ہوسکتا۔

                اب وقت آگیا ہے کہ جنیوا کے سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر اصل سوال پر توجہ دی جائے:کیا پاکستان جموں و کشمیر میں پائیدار امن کے عمل کو آگے بڑھنے دے گا، یا ایک بار پھر دہشت گردی کے ذریعے اس خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش جاری رکھے گا؟ گزشتہ 35 برس کا تجربہ بتاتا ہے کہ اس راستے کا نقصان کسی ایک حکومت یا کسی ایک ملک کو نہیں، سب سے زیادہ کشمیری عوام کو پہنچا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

ہندوستان اور بحرالکاہل کے جزائری ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور، قابل تجدید توانائی اور موسمیاتی مسائل پر بات چیت

Next Post

سیاست میں سیاست؟ ہاں تو!

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

تعطیلات کی سیاست اور اسمبلی کا اصل ایجنڈا

2026-09-24
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کشمیری شادیاں: روایت، نمود و نمائش اور ہماری اجتماعی بے حسی         

2026-09-23
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پانچ روزہ تعلیمی ہفتہ: بچوں کو آرام بھی چاہیے، مگر حساب بھی ضروری ہے         

2026-09-22
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جموں میں کیک پر قتل کا واقعہ ہمیں کیا بتاتا ہے               

2026-09-20
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

نابالغ اور سوشل میڈیا، قانون کو فیصلہ کرنا ہوگا

2026-09-17
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

وقف بورڈ کی ترجیحات کیا ہونی چاہئیں؟

2026-09-15
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

2026-09-13
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

 ایک نئے سفر کا آغاز: فلم فیسٹیول کشمیر کے لیے صرف چار دن نہیں؟

2026-09-12
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

سیاست میں سیاست؟ ہاں تو!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.