واشنگٹن ڈی سی/حیدرآباد، 24 ستمبر (یو این آئی) واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ عالمی امن سربراہ اجلاس میں بین الاقوامی سیاسی، سفارتی، مذہبی، کاروباری اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں جاری مسلح تنازعات سے نمٹنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور سفارت کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
سربراہ اجلاس میں امریکہ، ایران، ہندوستان، پاکستان، اسرائیل، فلسطین، لبنان، روس، یوکرین، کانگو اور افغانستان سمیت مختلف ممالک اور خطوں سے تقریباً 100 رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی۔ امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور گلوبل پیس کے صدر و پرجا شانتی پارٹی کے صدر ڈاکٹر کے اے پال بھی اہم مقررین میں شامل تھے۔
شرکاء نے مسلح تنازعات کے انسانی اور معاشی اثرات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں لوگوں کی نقل مکانی، انسانی مصائب، غذائی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور توانائی کے اخراجات میں اضافہ شامل ہے۔ عیسائی، مسلم، یہودی اور ہندو برادریوں کے نمائندوں کے علاوہ سیاسی، سفارتی، کاروباری اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے بھی مباحثے میں حصہ لیا۔
ڈاکٹر کے اے پال نے انسانی جانوں کے تحفظ اور امن کے فروغ کے لیے قومی، مذہبی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر تعاون کی اپیل کی۔
ڈاکٹر پال نے کہاکہ ’’ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ہم قوموں، مذاہب اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر انسانی جانوں کے تحفظ اور ایک پُرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں۔‘‘
منتظمین کے مطابق اسپیکر مائیک جانسن نے ایران کے ساتھ تنازع اور دیگر جنگوں کے خاتمے کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عزم کا حوالہ دیا۔
سربراہ اجلاس میں دنیا بھر کے رہنماؤں، سفیروں، مذہبی برادریوں، کاروباری اداروں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ وہ بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے لیے کوشش کریں اور قومی و مذہبی حدود سے بالاتر ہوکر تعاون کو مضبوط بنائیں۔
گلوبل پیس کے سفیر ڈیو میک کوئڈ نے کہا کہ مختلف ممالک اور سیاسی نظاموں کے رہنما امن مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے ڈاکٹر پال پر اعتماد کرتے ہیں۔ منتظمین نے مختلف ممالک میں ڈاکٹر پال کی سابقہ امن کوششوں اور ریلیوں کو بھی اجاگر کیا۔
سربراہ اجلاس میں جمہوری جمہوریہ کانگو کے ایک سابق نائب صدر نے بھی اپیل کی اور ڈاکٹر پال کو ملک میں امن ریلی منعقد کرنے کی دعوت دی۔ کانگو طویل عرصے سے مسلح تنازعات اور جانی نقصان کا سامنا کر رہا ہے۔
پرجا شانتی پارٹی کی جانب سے جمعرات کو جاری ایک بیان کے مطابق منتظمین نے کہا کہ گلوبل پیس انیشی ایٹو کا مقصد اقوام، مذہبی برادریوں اور معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مذاکرات، مفاہمت اور تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ تنازعات کو کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت کرنا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔






