لڑنے دیجئےصاحب…….اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے سے لڑنے دیجئے۔ لڑنے کیا، اگر یہ ہاتھا پائی بھی کریں، ایک دوسرے کا دامن چاک بھی کریں تو انہیں کرنے دیجئے کہ آپ کا کیا جاتا ہے۔ حکمران جماعت، نیشنل کانفرنس، اور اپوزیشن پارٹی، بی جے پی، لڑ رہی ہیں۔ اس پر لڑ رہی ہیں کہ کس لیڈر کا جنم دن منایا جائے اور کس کا نہیں۔ کس کے جنم دن پر چھٹی کی جائے اور کس کے نہیں۔این سی شیخ صاحب کے یومِ پیدائش پر تعطیل، سرکاری تعطیل کی بحالی چاہتی ہے، جبکہ بی جے پی اس خیال پر بھی سیخ پا ہے۔ ساتھ ہی وہ یہ سننا بھی نہیں چاہتی کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن کی چھٹی کی چھٹی کی جائے……. اس پر یہ دونوں جماعتیں لڑ رہی ہیں اور اللہ میاں کی قسم، انہیں لڑنے دیجئے……. کہ ہمیں یقین، اس بات پر یقین ہے کہ آپ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے، کہ ان میں کوئی جئے یا مرے……. اور سچ پوچھئے تو کوئی دلچسپی ہونی بھی نہیں چاہئے۔اور اس لیے نہیں ہونی چاہئے کہ اصل اشو یہ نہیں ہے……. اصل مدعا یہ ہے کہ آیا عام آدمی کا جنم دن، یعنی جس دن وہ پیدا ہوا، اس دن کو کس طرح منایا جائے……. سچ پوچھیں تو ہماری رائے میں عام آدمی کا جنم دن یومِ سوگ کے طور پر منایا جانا چاہئے اور……. اور اس لیے یومِ سوگ منایا جانا چاہئے کہ عام آدمی……. یعنی آپ اور ہم……. اس دھرتی پر بوجھ ہوتے ہیں۔ ہمارا اس دنیا میں آنا، اس دنیا اور اس سرزمین پر بوجھ صرف بوجھ بڑھا دیتا ہے اور کچھ نہیں۔اگر ہم نہیں ہوتے تو ہم سے جڑے مسائل بھی نہیں ہوتے……. روزگار کا مسئلہ ہوتا ہے اور نہ بے روزگاری کا سوال……. بیماریوں کے علاج کی بات ہوتی اور نہ ہسپتالوں میں طبی سہولیات کے فقدان پر واویلا ہوتا……. مہنگائی پر سینہ کوبی ہوتی اور نہ غربت پر ماتم……. مفت بجلی کی مانگ ہوتی اور نہ اسے فراہم کرنے کا کوئی جھوٹا وعدہ ہوتا……. ایسا ویسا کچھ بھی نہیں ہوتا، بالکل بھی نہیں ہوتا……. اگر کچھ ہوتا تو بس اسمبلی میں جھگڑا ہوتا، اس بات پر جھگڑا ہوتا کہ کس کے جنم دن پر چھٹی ہو اور کس کے نہیں۔لیکن اب چونکہ آپ اور ہم ہیں، دھرتی ماں ہمارا بوجھ سہہ رہی ہے، تو اللہ میاں کی قسم، اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کو لڑنا……. آپس میں سرکاری تعطیلات پر لڑنا زیب نہیں دیتا کہ اگر انہیں لڑنا ہی ہے تو ان مسائل سے لڑیں جن سے آپ اور ہم روز لڑ رہے ہیں۔لیکن صاحب، یہ اس پر نہیں لڑیں گی۔ اس لیے انہیں لڑنے دیجئے، جن اشوز پر یہ لڑتی رہتی ہیں۔ ہے نا؟
۔۔۔۔۔۔




