واشنگٹن،22ستمبر (یو این آئی) اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ ایران کے لیے تنازع ختم کرنے کی غرض سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا راستہ کھلا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تہران پر اقتصادی دباؤ جاری رہے گا۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ال مانیٹر لائیو کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے والٹز نے کہا کہ انتظامیہ کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع میں ’’وقت ہمارے ساتھ ہے‘‘۔ یہ تنازع 28 فروری کو شروع ہوا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن سمجھتا ہے کہ وقت اس کے حق میں ہے تو والٹز نے کہا، ’’میں واقعی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’ایران کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا دروازہ کھلا ہے‘‘، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کو ’’خیالی‘‘ قرار دیا کہ تہران نے دوبارہ مذاکرات کے لیے امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ہرجانے کی ادائیگی کو شرائط کے طور پر پیش کیا ہے۔
والٹز نے کہا، ’’ایرانی حکومت 1979 کے بعد سے اپنی کمزور ترین حالت میں ہے اور مزید کمزور ہو رہی ہے۔‘‘ انہوں نے اس کی وجہ اقتصادی دباؤ اور ایرانی کرنسی کی قدر میں کمی کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ مذاکرات میں واپس آئیں گے، میری امید ہے کہ پرامن اور سفارتی طریقے سے۔‘‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تنازع 2029 تک جاری رہ سکتا ہے، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام کا سال ہے، تو والٹز نے کہا کہ وہ جنگ کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کرنا چاہیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’میں اس کے لیے کوئی مخصوص مدت مقرر نہیں کروں گا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر ہے کہ ایران ’’کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے‘‘ اور تہران جب بھی ’’نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہو‘‘، مذاکرات کی میز پر واپس آ سکتا ہے۔
والٹز نے کہا کہ اس دوران امریکہ ایران کی معیشت پر ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی بدستور جاری ہے اور دعویٰ کیا کہ خلیجی اتحادی ممالک سے عالمی منڈیوں تک ایک ارب سے زیادہ بیرل تیل امریکی بحریہ کی نگرانی میں پہنچایا گیا ہے، جبکہ ایرانی تیل کی برآمدات بدستور روکی گئی ہیں۔
والٹز نے ایران کی اقتصادی مشکلات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ایرانی ریال کی قدر دو ملین ریال فی ڈالر سے بھی نیچے چلی گئی ہے، جبکہ افراط زر میں اضافہ اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی ہو رہی ہے۔
ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے حوالے سے والٹز نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ صورت حال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، تاہم انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ واشنگٹن کیا ردعمل دے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور تجارتی بحری نقل و حمل کے تحفظ کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔
والٹز نے کہا، ’’ہمیں آزاد اور کھلی تجارت کو یقینی بنانا ہوگا۔‘‘ انہوں نے آبنائے ہرمز، باب المندب اور نہر سویز سمیت اہم بحری راستوں کا حوالہ دیا۔








