نئی دہلی؍۱۹ستمبر
وزارت پٹرولیم و قدرتی گیس نے ہفتہ کو کہا کہ یکم اکتوبر۲۰۲۶ سے گھریلو ایل پی جی صارفین کے لیے مقررہ خوردہ فروخت قیمت پر قابل اطلاق سبسڈی کے ساتھ ری فل بک کرانے کے لیے آدھار بایومیٹرک تصدیق (بی اے اے) لازمی ہوگی۔
وزارت کے مطابق۲۷ء۴۳ کروڑ فعال صارفین، یعنی کل صارفین کے۸۹ء۹ فیصد نے پہلے ہی یہ عمل مکمل کرلیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ جن صارفین نے تصدیق مکمل کرلی ہے، انہیں مزید کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ہوگی اور وہ پہلے کی طرح ری فل حاصل کرتے رہیں گے۔
جن صارفین نے ابھی تک بایومیٹرک آدھار تصدیق مکمل نہیں کی ہے، ان کے لیے رعایتی ری فل کی بکنگ مقررہ خوردہ فروخت قیمت پر تصدیق مکمل کرنے کے بعد ہی فعال کی جائے گی۔ یہ عمل ری فل کی ترسیل کے دوران، ایل پی جی تقسیم کار کے شوروم میں یا تینوں سرکاری شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کی موبائل ایپلی کیشنز کے ذریعے مکمل کیا جاسکتا ہے۔
انڈین آئل کے صارفین IndianOil ONE ایپ، بھارت گیس کے صارفین HelloBPCL اور ایچ پی گیس کے صارفین HP PAY کے ذریعے گھر بیٹھے تصدیق مکمل کرسکتے ہیں۔
وزارت نے کہا کہ جو صارفین بایومیٹرک آدھار تصدیق مکمل کرنے کے خواہش مند نہیں ہیں یا ایسا کرنے سے قاصر ہیں، وہ ایل پی جی حاصل کرنا جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم انہیں اپنی متعلقہ او ایم سی کے ڈیجیٹل ذرائع، بشمول صارف پورٹلز، موبائل ایپس، واٹس ایپ چیٹ بوٹس اور آئی وی آر ایس کے ذریعے اپنی ترجیح درج کرانی ہوگی۔ ایسے صارفین کو مقامی دستیابی سے مشروط، 5 کلو یا 10 کلو کے سلنڈروں میں، سبسڈی کے بغیر قابل اطلاق مارکیٹ قیمت پر ایل پی جی فراہم کی جائے گی۔
حکومت نے کہا کہ تصدیق کا عمل اس بات کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا گیا ہے کہ رعایتی ایل پی جی حقیقی اور اہل گھرانوں تک پہنچے، جبکہ گھریلو سلنڈروں کو تجارتی اور صنعتی استعمال کے لیے منتقل کیے جانے کی روک تھام اور نقل یا غیر اہل کنکشن ختم کیے جاسکیں۔
ہفتہ تک 27.43 کروڑ فعال گھریلو ایل پی جی صارفین بایومیٹرک آدھار تصدیق مکمل کرچکے تھے، جو کل صارفین کا 89.9 فیصد ہے۔
حکومت نے ابتدائی طور پر تصدیق مکمل کرنے کے لیے 30 جون کی آخری تاریخ مقرر کی تھی، جس کے بعد اس میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی اور بالآخر آخری تاریخ 14 ستمبر مقرر کی گئی۔
وزارت نے کہا کہ ستمبر میں 14.2 کلوگرام کے گھریلو ایل پی جی سلنڈر پر ضمنی سبسڈی تقریباً 210 روپے تھی، جبکہ جون میں یہ 721 روپے تھی۔ گھریلو ایل پی جی کو قابل استطانعت رکھنے کے لیے حکومت مالی سال 2025-26 اور مالی سال 2026-27 کے دوران او ایم سیز کو 30,000 کروڑ روپے کا معاوضہ فراہم کر رہی ہے۔
وزارت کے مطابق 31 اگست 2026 تک سرکاری شعبے کی او ایم سیز کی گھریلو ایل پی جی پر جمع شدہ ناقابل تلافی مالی خسارے کی رقم 62,000 کروڑ روپے سے تجاوز کرچکی تھی، جس کے باعث اسکیم کو برقرار رکھنے کے لیے ہدفی سبسڈی کی فراہمی اہم ہوگئی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










