سری نگر؍۱۹ ستمبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے ہفتہ کو سری نگر میں جموں و کشمیر کی ریزرویشن پالیسی کے خلاف احتجاج کی قیادت کی۔ مظاہرین نے اوپن میرٹ امیدواروں کے لیے مواقع کے محدود ہوتے حصے پر تشویش کا اظہار کیا۔
التجا مفتی نے موجودہ ریزرویشن نظام کے جاری جائزے میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ ریزرویشن پالیسی کا جائزہ لینے اور اسے معقول بنانے کے لیے تشکیل دی گئی کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارشات کو مزید تاخیر کے بغیر عوام کے سامنے لایا جائے۔
التجا نے کہا کہ طلبہ اور ملازمت کے امیدواروں کو یہ جاننے کا جائز حق حاصل ہے کہ اس معاملے پر کیا سفارشات پیش کی گئی ہیں، کیونکہ یہ مسئلہ براہ راست ان کے تعلیمی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کرتا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ رپورٹ کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے اور حکومت شفاف اور مشاورتی عمل کے ذریعے اوپن میرٹ امیدواروں کے خدشات کو دور کرے۔
جموں و کشمیر کی نظرثانی شدہ ریزرویشن پالیسی۲۰۲۴ میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے۲۰۰۲ کے کوٹے کے قواعد میں ترمیم کے بعد ایک اہم متنازع مسئلہ بن گئی ہے۔ ترمیم کے تحت پہاڑیوں کو درج فہرست قبائل کے زمرے میں۱۰ فیصد ریزرویشن دیا گیا اور درج فہرست ذاتوں کی فہرست میں۱۵ سے زائد ذاتوں کو شامل کیا گیا۔ اس اقدام کے خلاف احتجاج شروع ہوئے، جن میں۲۰ دسمبر۲۰۲۴ کو سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی رہائش گاہ کے باہر کیا گیا مظاہرہ بھی شامل تھا۔
بعد ازاں حکومت نے ریزرویشن پالیسی کو معقول بنانے کے لیے ایک کابینہ ذیلی کمیٹی تشکیل دی۔
اس کی رپورٹ لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے وزارت داخلہ کو بھیجی گئی، جہاں سے اسے بعض سوالات کے ساتھ واپس بھیج دیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ اس نے ان سوالات کا جواب دے دیا ہے اور رپورٹ دوبارہ لیفٹیننٹ گورنر کو بھیج دی گئی ہے۔
۱۴ ؍اگست کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ریزرویشن نظام میں تبدیلی کے لیے ان کی کابینہ کی تجویز پر عمل نہیں کیا گیا تو جن زی طرز کے احتجاج شروع ہو سکتے ہیں۔
۔۔۔۔(ایجنسیاں )










