سرینگر؍۱۸ ستمبر
ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک اگلے ہفتے لیہ میں۲۰ کلومیٹر طویل مارچ کی قیادت کریں گے۔ یہ مارچ لداخ میں گزشتہ برس ہونے والی شہری ہلاکتوں کی پہلی برسی کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔
گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو لیہ شہر میں احتجاج کے دوران حالات پرتشدد ہونے کے بعد پولیس فائرنگ میں چار شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ احتجاج کے وقت وانگچک بھوک ہڑتال پر تھے۔ بعد ازاں ان کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں چھ ماہ کے لیے جودھپور جیل میں رکھا گیا۔
یہ مارچ پہلے کارگل سے شروع ہوکر۲۴ ستمبر کو لیہ میں اختتام پذیر ہونا تھا، تاہم موسم کی صورتحال کے پیش نظر اسے محدود کرکے۲۰ کلومیٹر کے ’’علامتی‘‘ مارچ تک کردیا گیا ہے۔
وانگچک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر پیدل مارچ کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا، ’’میں نے پہلے آپ سے لداخ کی ثقافت، ماحولیات اور جمہوریت کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت میں پیدل مارچ کے بارے میں بات کی تھی۔ تاہم، لداخ میں سردی بڑھ رہی ہے اور سیاسی ماحول گرم ہو رہا ہے، اس لیے ہم۲۳ ستمبر کو لیہ میں۲۰ کلومیٹر کا علامتی مارچ کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ۲۴ ستمبر کو گزشتہ سال ہلاک ہونے والے شہریوں کی یاد میں ’’شہید دیوس‘‘ کے طور پر منایا جائے گا۔ ان شہریوں نے لداخ کے ماحول اور جمہوریت کے تحفظ کے مطالبات کے لیے احتجاج کے دوران جانیں گنوائی تھیں۔
ہلاکتوں کی پہلی برسی سے قبل لداخ انتظامیہ نے اتوار کو گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو لیہ میں پولیس فائرنگ میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے اہل خانہ کے لیے معاوضے کا اعلان کیا۔ یہ لداخ کی دو نمائندہ تنظیموں کے مطالبات میں سے ایک کی تکمیل ہے۔
انتظامیہ نے ریاستی درجے اور لداخ کے لیے چھٹی شیڈول کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کے دوران زخمی ہونے والے افراد کے لیے بھی معاوضے کا اعلان کیا ہے۔
معاوضے کے لیے منظور کیے گئے۱ء۵۲کروڑ روپے میں سے احتجاج کے دوران ہلاک ہونے والے چار افراد کے اہل خانہ کو۱۵ لاکھ روپے فی خاندان دیے جائیں گے۔
انتظامیہ کے مطابق شدید زخمی ہونے والے افراد کو۳ لاکھ روپے فی کس جبکہ معمولی زخمی ہونے والے مظاہرین کو ایک لاکھ روپے فی کس معاوضہ دیا جائے گا۔
گزشتہ سال۲۴ ستمبر کو لیہ میں لداخ کے ریاستی درجے اور آئین کے چھٹے شیڈول میں شمولیت کے مطالبے پر ہونے والا احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا، جس کے بعد پولیس فائرنگ میں چار مظاہرین ہلاک اور۴۴ زخمی ہوئے تھے۔
یہ پرتشدد احتجاج اس وقت شروع ہوا جب طلبہ اور نوجوانوں کی تنظیموں نے لداخ میں بند کی کال دی تھی۔ اس سے قبل وانگچک کی جانب سے اعلان کردہ بھوک ہڑتال کے دوران دو معمر افراد بے ہوش ہوگئے تھے۔اس واقعے کی عدالتی تحقیقات بھی کی گئی تھیں، تاہم اس کی رپورٹ کے نتائج تاحال عوام کے سامنے نہیں لائے گئے ہیں۔
۔۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










