نئی دہلی؍۱۸ ستمبر
بھارت نے بحیرۂ عرب کے مغربی حصے میں پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس حنین اور بھارتی بحریہ کے جنگی جہاز آئی این ایس کولکاتا کے درمیان تصادم کے معاملے پر اپنے احتجاج کے جواب میں پاکستان کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے پاکستانی الزامات اور اشاروں کو ’’قطعی طور پر ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کو معمول کی بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارت کو پاکستان کی جانب سے ’’حسبِ توقع وہی پرانی ٹال مٹول‘‘ کی امید تھی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے وقت آئی این ایس کولکاتا مغربی بحیرۂ عرب میں معمول کی تعیناتی پر تھا۔
جیسوال نے کہا، ’’ہم نے اپنے احتجاج پر پاکستان کا جواب دیکھا ہے۔ یہ وہی پرانی ٹال مٹول ہے جس کی ہمیں توقع تھی۔ ہم اس میں عائد الزامات اور کیے گئے اشاروں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں۔ واقعے کے وقت آئی این ایس کولکاتا مغربی بحیرۂ عرب میں معمول کی تعیناتی پر تھا، جب کہ پاکستان نیوی کے جہاز پی این ایس حنین نے سمندر میں ناقابلِ قبول اور غیر پیشہ ورانہ انداز اختیار کیا، جس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔‘‘
جیسوال نے کہا کہ پی این ایس حنین کی جانب سے خطرناک انداز میں آگے نکلنے کی کوشش اپریل۱۹۹۱ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل۱۰ کی ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ تھی۔
ترجمان وزارت خارجہ کے مطابق مذکورہ شق میں یہ طے کیا گیا ہے کہ سمندر میں موجود بحری یونٹس ایک دوسرے سے تین بحری میل کے فاصلے کے اندر نہیں آنے چاہئیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی جہاز نے سمندر میں تصادم کی روک تھام سے متعلق بین الاقوامی ضوابط کی بھی خلاف ورزی کی۔
جیسوال نے کہا کہ پاکستانی فریق کو ایک بار پھر مشورہ دیا گیا ہے کہ ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے اس کے تمام فوجی یونٹس ضروری احتیاط برتیں اور دونوں ممالک کے درمیان متعلقہ معاہدوں کی شقوں کا احترام کریں۔انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں آئی این ایس کولکاتا کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور وہ بدستور سمندر میں تعینات ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان بھارت کی جانب سے احتجاج اور پاکستان کے جواب کے دو روز بعد سامنے آیا ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق بحیرۂ عرب میں ایک پاکستانی جنگی جہاز نے مبینہ طور پر غیر پیشہ ورانہ اور غیر محفوظ انداز میں نقل و حرکت کرتے ہوئے بھارتی بحریہ کے ایک جنگی جہاز سے تصادم کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق۱۵ ستمبر کی شام پاکستان نیوی کا ایک جہاز شمالی بحیرۂ عرب میں معمول کی نگرانی کی ذمہ داری پر موجود بھارتی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے قریب تیز رفتاری سے پہنچا۔ بھارتی حکام کے مطابق پاکستانی جہاز نے غیر پیشہ ورانہ اور غیر محفوظ انداز میں رخ تبدیل کیا، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں تصادم ہوا۔
بھارت نے بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور سے پاکستانی بحری یونٹ کے ’’ناقابلِ قبول اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل‘‘ پر سخت احتجاج کیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستانی ناظم الامور سے کہا گیا کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام فوجی یونٹس ضروری احتیاط برتیں اور دونوں ممالک کے درمیان متعلقہ معاہدوں کی شقوں کا احترام کریں۔
اسی روز پاکستان نے بھی مبینہ طور پر اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے شکایت درج کرائی تھی۔ پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی کارروائی کو ’’انتہائی اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول‘‘ قرار دیا تھا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق آئی این ایس کولکاتا کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا اور وہ بدستور سمندر میں تعینات ہے۔
۔۔۔۔ایجنسیاں










