سرینگر؍۱۷ ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز ایک بار پھر جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں اب تک انہیں صرف زبانی یقین دہانیاں ہی ملی ہیں۔
یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ان کی۷۶ ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی دی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم انہیں ان کی سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔‘‘
یہ پوچھے جانے پر کہ انہیں آج وزیرِ اعظم کی جانب سے کسی اعلان کی کیا توقع ہے، عمر عبداللہ نے کہا، ’’میں کیا کہہ سکتا ہوں کہ وہ (مودی) کیا کرتے ہیں۔۔۔ اگر کچھ اور نہیں تو کم از کم ہمیں ریاستی درجہ دے دیں، ہم اور کیا چاہتے ہیں؟‘‘
عمر عبداللہ امرتسر میں کورٹ روڈ پر واقع تزئین و آرائش کے بعد جموں و کشمیر ہاؤس کی تاریخی عمارت کا افتتاح کرنے کے لیے گئے تھے۔
ریاستی درجہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر عمر عبداللہ نے کہا، ’’آپ سب جانتے ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جموں و کشمیر کے انتخابات کے بعد ریاستی درجہ بحال کردیا جائے گا۔ لیکن ہمیں کچھ بھی تحریری طور پر نہیں دیا گیا، صرف زبانی یقین دہانیاں کی گئیں۔‘‘
عمرعبداللہ نے لداخ کی قیادت کو بھی مشورہ دیا کہ وہ زمین اور ملازمتوں سے متعلق آئینی تحفظات کی اپنی جدوجہد کے سلسلے میں مرکز کی زبانی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہ کرے۔
وزیرِ اعلیٰ نے کہا، ’’اسی لیے میں لداخ کے لوگوں اور اپنے دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ مرکز کی باتوں پر بھروسہ نہ کریں۔۔۔ بلکہ ان یقین دہانیوں کو تحریری شکل میں حاصل کریں۔ ہمیں بھی کچھ تحریری طور پر نہیں ملا اور آج بھی ہم وہیں کھڑے ہیں۔ جموں و کشمیر بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کی زبانی یقین دہانیوں کا شکار رہا ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکز نے تین مراحل پر مشتمل ایک عمل کی وضاحت کی تھی، جس میں حد بندی، اسمبلی انتخابات اور ریاستی درجہ کی بحالی شامل تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’یہ یقین دہانی پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں بھی دی گئی تھی۔ ہم نے جموں و کشمیر میں حد بندی اور انتخابات دونوں دیکھے، جن میں لوگوں نے حصہ لیا، لیکن آج تک ریاستی درجہ بحال نہیں کیا گیا۔‘‘
۵ ؍اگست۲۰۱۹ کو مرکزی حکومت نے آئین کی دفعہ۳۷۰ کو منسوخ کردیا تھا، جس کے تحت سابق ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کو دو مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کردیا گیا؛ جموں و کشمیر کو محدود اختیارات والی قانون ساز اسمبلی دی گئی، جبکہ لداخ کو بغیر اسمبلی کے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنایا گیا۔
دسمبر۲۰۲۳ میں سپریم کورٹ نے مرکز کی جانب سے خصوصی حیثیت ختم کرنے اور دونوں مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے قیام کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم عدالت نے حکومت سے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ جلد از جلد بحال کرنے کو کہا تھا۔
اس سے پہلے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کے روز پنجاب کے امرتسر میں تزئین و آرائش کے بعد جموں و کشمیر ہاؤس کا افتتاح کیا۔
امرتسر کے۲ ، کورٹ روڈ پر واقع اس تاریخی عمارت کو جدید سہولیات سے مکمل طور پر آراستہ کیا گیا ہے تاکہ امرتسر آنے والے جموں و کشمیر کے باشندوں کو مناسب اور آرام دہ رہائش فراہم کی جاسکے۔ بالخصوص ایسے مریضوں اور ان کے تیمارداروں کو سہولت فراہم کرنا اس کا اہم مقصد ہے جو علاج کے لیے امرتسر کا رخ کرتے ہیں۔
عمارت کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن کا کام اکتوبر۲۰۲۵ میں شروع کیا گیا تھا اور تقریباً۲ء۳۰ کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا۔ کام میں سول اور برقی امور، اندرونی تزئین، مہمانوں کی سہولیات، بیرونی ترقیاتی کام اور دیگر متعلقہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری شامل تھی۔
اپ گریڈ کی گئی عمارت میں چار مہمان کمرے موجود ہیں، جن کے ساتھ ڈریسنگ ایریا اور غسل خانے بھی منسلک ہیں۔ اس کے علاوہ ایک مشترکہ بیٹھک، کھانے کا کمرہ اور باورچی خانہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔
شہر کے اہم اسپتالوں اور دیگر نمایاں مقامات کے قریب واقع یہ جموں و کشمیر ہاؤس مریضوں اور ان کے تیمارداروں کے لیے ایک اہم معاون سہولت ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ، زائرین اور دیگر مسافروں کو بھی اس سے فائدہ پہنچے گا۔
وزیرِ اعلیٰ نے نئی سہولیات کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ مہمانوں کے لیے اعلیٰ معیار کی میزبانی، صفائی ستھرائی اور عمارت کی مناسب دیکھ بھال کے معیار کو برقرار رکھا جائے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ سہولت جموں و کشمیر سے باہر علاج کے لیے جانے والے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دیگر مسافروں کے لیے بھی یہ ایک مناسب اور کم خرچ رہائش گاہ فراہم کرے گی۔
وزیرِ اعلیٰ نے عمارت کی تزئین و آرائش اور اپ گریڈیشن میں شامل مختلف محکموں اور افسران کی کوششوں کو سراہا اور سہولت کو بلند معیار کے مطابق برقرار رکھنے پر زور دیا۔
۔۔۔۔(ویب ڈیسک)










