سرینگر؍۱۷ستمبر
پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندواڑہ کے رکنِ اسمبلی سجاد گنی لون نے۱۹۸۷کے اسمبلی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات سے متعلق اپنی قرارداد کے معاملے پر جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی سیکریٹریٹ کی ’’خاموشی‘‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں سجاد لون نے قرارداد پر خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’اسمبلی ایک ایسے ڈاک خانے کے طور پر کام نہیں کرسکتی جو صرف سہولت کے مطابق خطوط آگے بھیجے اور ناموافق خطوط کو چھپا دے۔ اسے حکومت نواز کورئیر ایجنسی کا کردار بھی ادا نہیں کرنا چاہیے۔ یہ تمام ارکانِ اسمبلی کے حقوق اور جموں و کشمیر کے عوام کی جانب سے ہم پر کیے گئے اعتماد کی محافظ ہے۔‘‘
ضابطۂ کار اور قواعدِ کاروبار کی دفعہ۱۷۹کا حوالہ دیتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ ارکان کو بتایا جائے کہ ان کی قراردادیں اسپیکر کی جانب سے منظور کی گئی ہیں، مسترد کی گئی ہیں یا ترمیم کے ساتھ منظور کی گئی ہیں۔
لون نے کہا، ’’قاعدے میں استعمال ہونے والا لفظ ’shall‘ ہے، جو اسے لازمی بناتا ہے۔ معلومات فراہم نہ کرنا قواعد کی خلاف ورزی ہے۔‘‘
رکنِ اسمبلی نے مزید کہا کہ انہوں نے اسمبلی سیکریٹریٹ کو خط لکھ کر۱۹۸۷کے انتخابات سے متعلق اپنی قرارداد کی حیثیت کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔(ایجنسیاں)










