تل ابیب، 8 ستمبر (یو این آئی) انتہا پسند دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی وزرا نے گزشتہ ہفتے غزہ سے فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کی زیادہ کھل کر وکالت شروع کر دی اور غیر قانونی جبری بے دخلی کے لیے مدت اور حکومتی طریقہ کار بھی پیش کیے، جبکہ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بے گھری، انہدام اور ہلاکتوں کا سلسلہ جاری رہا۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنا ’’واحد حل‘‘ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل یہ کام ’’سمندر کے راستے، فضائی راستے اور ہر ممکن طریقے سے‘‘ کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تجویز کی حمایت ختم نہیں کی بلکہ صرف اسے ’’منجمد‘‘ کیا ہے۔
اس کے بعد قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے ’’ڈس انگیجمنٹ 710‘‘ کے نام سے 7 سالہ منصوبہ پیش کیا، جس کے تحت غزہ کے تقریباً 20 لاکھ باشندوں کو ان کے بقول ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے ذریعے وہاں سے نکالا جائے گا۔
بن گویر نے مزید کہا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے ایک علیحدہ وزارتِ ہجرت قائم کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ وہ ’’غزہ کی آبادی کی جبری بے دخلی، اخراج یا لازمی منتقلی کے کسی منصوبے یا تجویز کی حمایت نہیں کرتا‘‘، تاہم اس نے کاٹز یا بن گویر کی براہِ راست مذمت کرنے سے گریز کیا۔
غزہ میں تقریباً روزانہ ہونے والے فضائی حملوں کے باعث ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ منگل کو غزہ شہر کے امریکی ہسپتال کے قریب اسرائیلی اسپیشل فورسز کے ایک چھاپے میں کم از کم 4 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں 2 بچے اور ایک خاتون شامل تھی۔ کارروائی کے اختتام پر معین العربید کو گرفتار کر لیا گیا، جسے اسرائیل نے حماس کی داخلی سکیورٹی کا سربراہ قرار دیا ہے۔
بدھ کو جبالیا پناہ گزین کیمپ میں ڈرون حملے میں ایک بچہ ہلاک ہوا، جبکہ اسی روز خان یونس میں ایک خیمے پر حملے میں ایک شخص مارا گیا۔






