اوٹاوا، 8 ستمبر (یو این آئی) کینیڈا نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا پر جوابی محصولات عائد کر دیے ہیں، جس سے طویل عرصے سے اتحادی دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ اقدام اوٹاوا اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔
منگل کو نصف شب کے فوراً بعد نافذ ہونے والے نئے کینیڈین محصولات کی شرح 15 سے 50 فیصد تک ہے اور ان کا اطلاق امریکی مصنوعات کی وسیع رینج پر ہوگا، جن میں دودھ، پرفیوم، ویڈیو گیم کنسولز، گالف کلب، مچھلی پکڑنے کی چھڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم، جیکٹس اور ٹی شرٹس شامل ہیں۔
امریکی پنیر، قالین اور بعض گھریلو آلات، جن میں چولہے اور ایئر کنڈیشنر شامل ہیں، پر 25 فیصد محصولات عائد کیے گئے ہیں، جبکہ فورک لفٹ اور صنعتی سانچوں پر 15 فیصد ڈیوٹی ہوگی۔
یہ اقدامات واشنگٹن کی جانب سے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے کے فیصلے کے بعد کیے گئے ہیں۔ کینیڈین حکام نے امریکی محصولات کا ’’ڈالر بہ ڈالر‘‘ جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
تازہ ترین اقدامات دونوں ممالک کے درمیان سالانہ ہونے والی 700 ارب ڈالر سے زائد کی مجموعی تجارت کے صرف ایک حصے کو متاثر کرتے ہیں۔ تاہم ماہرین اقتصادیات اور تجارتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل جوابی کارروائی سے تنازع وسیع ہوسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں جانب کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکی تجارتی دباؤ کے خلاف اوٹاوا کے مضبوط مؤقف کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ ناکام مذاکرات کے دوران واشنگٹن کے مطالبات حد سے تجاوز کر گئے تھے۔
کارنی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ’’بہت زیادہ مانگا اور بہت کم پیش کیا‘‘ اور کینیڈا کے دیگر ممالک کے ساتھ تجارتی انتظامات پر زیادہ اختیار حاصل کرنے کی کوشش کی، جسے انہوں نے کینیڈا کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کی تجارتی پالیسیوں پر تنقید جاری رکھتے ہوئے مزید پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔
کینیڈا کے تازہ محصولات نافذ ہونے سے چند گھنٹے قبل ٹرمپ نے کینیڈین طیارہ ساز کمپنی بمبارڈیئر کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’امریکا میں بمبارڈیئر کی مزید فروخت نہیں ہوگی!‘‘
انہوں نے امریکیوں پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کی بعض مصنوعات سے گریز کریں اور سوشل میڈیا پر لکھا: ’’امریکی مصنوعات خریدیں۔ امریکی طیاروں میں سفر کریں۔ امریکی شراب اور مشروبات سے لطف اندوز ہوں۔ لیک امریکا میں سفر کریں۔‘‘
ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں اور ان کے پرزوں پر مزید محصولات عائد کرنے کی بھی دھمکی دی ہے، جبکہ ان کی انتظامیہ نے جنوری سے کینیڈین آٹو موبائل اور اسٹیل درآمدات پر 50 فیصد محصولات عائد کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے ناکام ہونے کے بعد تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ واشنگٹن نے کینیڈا پر امریکی صنعتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور پہلے عائد کیے گئے امریکی تجارتی اقدامات کے خلاف ضرورت سے زیادہ جوابی کارروائی کا الزام عائد کیا، جبکہ اوٹاوا نے امریکی مطالبات مسترد کر دیے۔
تازہ ترین کشیدگی نے خدشات کو جنم دیا ہے کہ یہ تنازع مخصوص مصنوعات پر محصولات تک محدود رہنے کے بجائے سرحد پار تجارت پر وسیع تر پابندیوں تک پھیل سکتا ہے۔
نیشنل فارن ٹریڈ کونسل کے تجارت اور جدت کے شعبے کے سینئر ڈائریکٹر بریڈ وڈ نے کہا، ’’یہ ایک دوسرے کے اقدامات کا جواب دینے والی کارروائی کینیڈین کاروباروں اور صارفین کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور امریکی کاروباروں اور صارفین کے لیے بھی۔‘‘
وڈ نے کہا، ’’ہر نئی کشیدگی رکاوٹوں کی ایک اور تہہ کا اضافہ کرتی ہے، جنہیں بالآخر کینیڈا اور امریکا کو مل کر حل کرنا ہوگا۔‘‘
یہ محصولات ایسے وقت میں عائد کیے گئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ درجنوں ممالک کو نشانہ بنانے والے تجارتی اقدامات کے ایک اور مرحلے کی تیاری کر رہی ہے۔ واشنگٹن ان ممالک پر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں اور ’’ضرورت سے زیادہ پیداواری صلاحیت‘‘ کا الزام عائد کرتا ہے۔ یہ محصولات رواں ہفتے ہی اعلان کیے جانے کا امکان ہے۔
ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ وسیع تر محصولات مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں کیونکہ درآمداتی محصولات کمپنیوں اور صارفین کے لیے اشیا کی قیمت بڑھا دیتے ہیں۔
فی الحال کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تنازع دو طرفہ تجارت کے نسبتاً محدود حصے تک مرکوز ہے۔ تاہم دونوں حکومتوں کی جانب سے مزید اقدامات کی دھمکیوں کے باعث سرحد کے دونوں جانب کاروباری ادارے ممکنہ طور پر زیادہ وسیع اور نقصان دہ تجارتی محاذ آرائی کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔





