اتوار, ستمبر 13, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اداریہ

کیاسرینگر آلودگی پر قابو پائے گا

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2026-09-13
in اداریہ
A A
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

                سوَچھ وایو سرویکشن 2026 میں سری نگر کو دس لاکھ سے زیادہ آبادی والے شہروں کے زمرے میں 26ویں پوزیشن ملی ہے، جبکہ دہلی، جو عرصۂ دراز سے فضائی آلودگی کے لیے بدنام ہے، 21ویں نمبر پر رہا۔ اس سے بھی زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ سری نگر تین برس قبل اسی سروے میں چوتھے نمبر پر تھا۔ اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ درجہ بندی محض فضائی معیار کی پیمائش نہیں بلکہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے کیے گئے اقدامات، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سڑکوں کی گرد و غبار، گاڑیوں اور صنعتی اخراج، تعمیراتی ملبے اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کی جاتی ہے، لیکن سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ سری نگر کی کارکردگی میں یہ نمایاں گراوٹ کیوں آئی اور شہر میں آلودگی کے ذرائع سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کس حد تک مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

                یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے کہ سروے میں شہر کا اسکور براہِ راست یہ نہیں بتاتا کہ وہاں کی ہوا دہلی سے زیادہ خراب یا بہتر ہے۔ جموں و کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین کے مطابق اس میں متعدد پیرامیٹرز شامل ہوتے ہیں اور خود شہری اداروں کی جانب سے کیے گئے اقدامات بھی جانچے جاتے ہیں۔ لیکن اس وضاحت کو اصل مسئلے سے صرفِ نظر کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔ اگر سری نگر کی درجہ بندی تین برس میں چوتھے سے 26ویں نمبر تک پہنچ گئی ہے تو اسے کم از کم ایک انتظامی و ماحولیاتی انتباہ ضرور سمجھا جانا چاہیے۔

                سری نگر میں آلودگی کے ذرائع کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں۔ سڑکوں پر بڑھتی ہوئی ٹریفک، گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی تعداد، سڑکوں کی گرد و غبار، تعمیراتی سرگرمیوں اور ملبے کا ناقص انتظام، فضلے کو کھلے میں جلانے کا رجحان اور مختلف اقسام کا اخراج پہلے ہی شہری زندگی کو متاثر کررہا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ شہر پھیل رہا ہے، نقل و حرکت بڑھ رہی ہے اور تعمیرات میں تیزی آرہی ہے، لیکن اس رفتار کے مطابق ماحولیاتی نظم و نسق کی صلاحیت مضبوط نہیں ہو رہی۔

متعلقہ

 ایک نئے سفر کا آغاز: فلم فیسٹیول کشمیر کے لیے صرف چار دن نہیں؟

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

                سب سے زیادہ توجہ روڈ ڈسٹ پر دینی ہوگی۔ سری نگر کی کئی اہم سڑکوں پر گرد و غبار ایک مستقل مسئلہ بن چکا ہے۔ سڑکوں کے کناروں کی ناقص حالت، تعمیراتی مواد کا کھلے میں پڑا رہنا، ٹریفک کے دباؤ اور صفائی کے غیر مؤثر طریقۂ کار کے باعث معمولی سی ہوا بھی گرد کو فضا میں شامل کردیتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف سڑکوں کی صفائی سے حل نہیں ہوگا۔ تعمیراتی مقامات پر مٹی اور ملبے کو ڈھانپنے، ٹرکوں سے مواد کی نقل و حمل کے دوران احتیاط، سڑک کنارے مٹی کے ڈھیروں کو ہٹانے اور گرد پیدا کرنے والے مقامات کی مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔

                اسی طرح سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کو بھی محض صفائی کا مسئلہ سمجھنا غلط ہوگا۔ کچرے کا غیر سائنسی انتظام بالآخر فضائی آلودگی کا سبب بنتا ہے۔ جب کچرا مناسب انداز میں جمع، الگ، منتقل اور تلف نہ ہو تو اس کا ایک حصہ کھلے میں جلایا جاتا ہے۔ سری نگر اور اس کے گرد و نواح میں خزاں کے موسم کے دوران فضلے اور باغبانی کے باقیات کو جلانے کے واقعات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے خلاف ضابطے موجود ہیں، مگر اصل ضرورت ضابطے نافذ کرنے کی ہے۔ صرف آگ جلانے پر پابندی کافی نہیں؛ لوگوں کو متبادل طریقۂ کار بھی فراہم کرنا ہوگا۔

                فضائی آلودگی کے حوالے سے ٹرانسپورٹ سیکٹر بھی بنیادی توجہ کا مستحق ہے۔ اگر شہر میں ہر سال گاڑیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے تو اس کے ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹریفک مینجمنٹ اور اخراج کی نگرانی بھی بہتر ہونی چاہیے۔ شہریوں کو نجی گاڑی استعمال کرنے پر مجبور رکھنے والا نظام کبھی کم اخراج والے شہر کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ بہتر بس سروس، مؤثر روٹ پلاننگ، پارکنگ کا منظم نظام اور غیر ضروری ٹریفک دباؤ میں کمی کے اقدامات اب ماحولیاتی پالیسی کا حصہ بننے چاہئیں۔

                اسی طرح تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی بھی ضروری ہے۔ شہر میں مسلسل تعمیرات ہورہی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر تعمیراتی منصوبے کے دوران گرد، ملبے اور فضلے کے اخراج کے لیے مقررہ ضوابط پر عمل ہورہا ہے؟ اگر تعمیراتی مواد سڑکوں پر بکھرا ہو، ملبہ کھلے میں پڑا ہو اور گاڑیوں کے پہیوں سے مٹی دور تک پھیل رہی ہو تو محض ایک سرکاری رپورٹ میں ماحولیاتی اقدامات کا ذکر شہریوں کو صاف ہوا فراہم نہیں کرسکتا۔

                اس پوری صورتحال کا ایک اہم پہلو اعداد و شمار اور نگرانی بھی ہے۔ اگر سروے میں خود احتسابی، ریاستی سطح کی جانچ، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی تشخیص اور آزاد اداروں کی فیلڈ ویریفیکیشن شامل ہے تو اس عمل کو مزید شفاف بنانا چاہیے۔ شہریوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ شہر نے کون سے اہداف مقرر کیے، ان میں سے کتنے حاصل ہوئے اور گزشتہ برس کے مقابلے میں کیا بہتری آئی۔ اگر کسی شہر کی درجہ بندی نیچے جاتی ہے تو حکومت کو محض یہ بتانے کے بجائے کہ سروے کیا ناپتا ہے، یہ بھی بتانا چاہیے کہ کارکردگی کیوں گری اور اصلاح کے لیے کیا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

                 سری نگر کی فضائی آلودگی کا مسئلہ صرف پولیوشن کنٹرول کمیٹی کا مسئلہ نہیں۔ میونسپل کارپوریشن، ٹریفک پولیس، ٹرانسپورٹ محکمہ، تعمیراتی ادارے، شہری منصوبہ بندی کے ذمہ دار محکمے اور خود شہری سب اس مسئلے کا حصہ ہیں۔ اگر کچرے کا انتظام خراب ہے تو اس کا اثر ہوا پر پڑے گا؛ اگر سڑکوں کی دھول نہیں روکی جاتی تو اس کا اثر ہوا پر پڑے گا؛ اگر ٹریفک بے قابو ہے تو اس کا اثر ہوا پر پڑے گا۔ اس لیے حل بھی بین المحکماتی ہونا چاہیے۔

                حکومت کو اب ایک شہری سطح کا واضح ایئر کوالٹی ایکشن پلان بنانا چاہیے، جس میں سالانہ اہداف، ذمہ دار ادارے، قابلِ پیمائش نتائج اور وقت کی حد مقرر ہو۔ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ اگلے سال سری نگر کو کس مقام تک پہنچانا ہے۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم آلودگی پر قابو پانے کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ شہریوں کو نتیجہ نظر آنا چاہیے۔

                اور یہاں شہریوں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ کھلے میں کچرا جلانا، تعمیراتی ملبہ سڑک پر پھینکنا، گاڑی کو بلا ضرورت چلانا یا آلودگی کے اصولوں کو نظر انداز کرنا ایسے رویے ہیں جنہیں محض سرکاری حکم سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ماحولیات کسی ایک محکمے یا حکومت کی ملکیت نہیں؛ یہ اجتماعی ذمہ داری ہے۔

                تاہم سب سے اہم چیز ترجیحات کا تعین ہے۔ سری نگر کو صرف اس بات پر اطمینان نہیں کرنا چاہیے کہ وہ ممبئی، بنگلورو، چنئی اور کولکتہ سے آگے ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے پچھلے معیار سے کتنے نیچے چلے گئے ہیں۔ 2023 میں چوتھی پوزیشن حاصل کرنے والا شہر اگر آج 26ویں نمبر پر ہے تو یہ فرق محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے، اور کسی بھی سنجیدہ انتظامیہ کے لیے رجحان اعداد سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

مودی نے 9/11 حملے کے متاثرین کوپیش کیا خراجِ عقیدت، کہا- دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کا پختہ عزم

Next Post

حکومت کے مسائل کون حل کرے گا؟

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

 ایک نئے سفر کا آغاز: فلم فیسٹیول کشمیر کے لیے صرف چار دن نہیں؟

2026-09-12
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

اتحاد کا مطلب نظریاتی یکسانیت نہیں

2026-09-10
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

جب منبر و محراب تقسیم کا ذریعہ بننے لگیں

2026-09-09
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

منشیات سے پاک بھارت کا ہدف اور جموں و کشمیر

2026-09-08
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹول: کشمیر کا نیا فلمی سفر؟

2026-09-06
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

جل جیون مشن:آخر مسئلہ کیا ہے ؟        

2026-09-05
بجٹ : بحیثیت مجموعی اطمینان بخش
اداریہ

  احتجاج اور جوابی احتجاج کے بیچ پستا عام آدمی    

2026-09-03
سچائی اور شفافیت سے عبارت سیاست
اداریہ

انٹرنز کا وظیفہ: جائز مطالبہ، مگر مریض اولین ترجیح

2026-09-02
Next Post
کانگریسی قیادت ‘ بھاجپا کیلئے اثاثہ

حکومت کے مسائل کون حل کرے گا؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

I agree to the Terms & Conditions and Privacy Policy.

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.