نئی دہلی 1 ستمبر(یو این آئی) آل انڈیا ملّی کونسل کے قومی معاون جنرل سکریٹری سلیمان خان نے مدھیہ پردیش کے ضلع گنا میں ایک بزرگ مسلمان شہری کی سرِ عام تذلیل، ان سے ناک رگڑوانے اور ہراسانی کے افسوس ناک اور انسانیت سوز واقعہ پر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
آل انڈیا ملی کونسل کے مرکزی دفتر سے جاری ایک پریس بیان میں سلیمان خان نے کہا کہ گائے کو لات مارنے کے مبینہ الزام کے تحت بجرنگ دل کے عناصر کی جانب سے ایک بزرگ شہری کو عوامی جگہ پر ذلیل کرنا، سجدے کے انداز میں دنڈاوت کروانا اور ان کی تذلیل کرنا قانون کی بالادستی، انسانی وقار اور بنیادی شہری حقوق پر سیدھا حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری اور آئینی ملک میں کسی بھی فرد، تنظیم یا ہجوم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے اور خود ہی عدالت بن کر لوگوں کی تذلیل یا سزا تجویز کرے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی قسم کا کوئی جرم یا الزام تھا تو اس کی تحقیقات اور سزا دینے کا اختیار صرف اور صرف قانونی اداروں اور عدالتوں کے پاس ہے۔ ہجوم کے ذریعے آئین و قانون کو بالائے طاق رکھ کر اس طرح کسی بزرگ شہری کی تذلیل کرنا ملک میں قانون کی حکمرانی اور نظم و ضبط پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
آل انڈیا ملّی کونسل حکومتِ مدھیہ پردیش اور متعلقہ پولیس انتظامیہ سےمطالبہ کرتی ہےکہ اس واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ ہجوم کے نام پر تذلیل اور تشدد میں ملوث تمام شرپسند عناصر کو فوری طور پر گرفتار کر کے ان کے خلاف سخت دفعات کے تحت کیس درج کیا جائے_ متاثرہ بزرگ شہری اور ان کے اہل خانہ کی مکمل سلامتی اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
سلیمان خان نے واضح کیا کہ قانون اور آئین کی حکمرانی کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور ایسے شرپسند عناصر کے خلاف بلا تاخیر اور سخت قدم نہ اٹھانا معاشرے میں انارکی کو فروغ دینے کے مترادف ہوگا۔






