’کیا کیرالہ میں ایک بھی شخص اس وقت جیل گیا جب وہاںیوم آزادی کی پریڈ میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گا ئے گئے‘
سری نگر؍۱۰ستمبر
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ نے وندے ماترم کی مکمل چھ بندوں پر مشتمل پیشکش کے تنازع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مؤقف کو ’حقیقت سے عاری اور انتہائی افسوسناک‘قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سوال حکومت جموں و کشمیر سے تھا اور اس بحث میں عام عوام کو شامل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
قرہ نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا’’عمر عبداللہ صاحب کا تبصرہ حقیقت سے کٹا ہوا ہے اور اسی لیے انتہائی افسوسناک ہے‘‘۔انہوں نے سوال اٹھایا’’جب ہماری توقعات واضح طور پر اور صرف حکومت جموں و کشمیر سے تھیں تو ’جموں و کشمیر کے عوام‘ اس معاملے میں کہاں سے آگئے؟
کانگریس سربراہ نے کہا کہ عوام کا اس بحث سے کوئی تعلق نہیں اور حکومت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر مضبوطی سے قائم رہے۔
قرہ نے عمر عبداللہ کی جانب سے مسئلہ اٹھائے جانے کے بعد دو سوالات بھی سامنے رکھے۔انہوں نے سوال کیا،’’کیا کیرالہ میں ایک بھی شخص اس وقت جیل گیا جب وہاں کی حکومت نے یوم آزادی کی پریڈ میں وندے ماترم کے صرف پہلے دو بند گانے کا فیصلہ کیا‘‘؟
ایکس پر اپنے دوسرے سوال میں قرہ نے کہا،’’کیا ہم اپنے معزز وزیر اعلیٰ سے یہ توقع رکھنے میں غلط ہیں کہ وہ بھی سیکولر اور جامع اقدار کے دفاع میں اتنے ہی مضبوط مؤقف کا مظاہرہ کریں جتنا کیرالہ، تمل ناڈو اور اب کرناٹک اور تلنگانہ کے وزرائے اعلیٰ نے سرکاری تقریبات میں وندے ماترم کو پہلے دو بندوں تک محدود کرکے کیا ہے‘‘؟
قرہ نے کہا کہ جموں کشمیر کا پہلا بین الاقوامی فلم فیسٹیول ایک ریاستی تقریب تھی۔ یہ تقریب جموں کشمیر کے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ اور نیشنل فلم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے مشترکہ طور پر منعقد کی تھی اور اس کا افتتاح خود وزیر اعلیٰ نے کیا تھا۔
کانگریسی لیڈر نے کہا’’اس لئے کون وہاں موجود تھا اور کون نہیں تھا، یہ بات غیر متعلق ہے۔ یہ صرف ایک اضافی تفصیل ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔‘‘
اس سے قبل وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ نیشنل کانفرنس نے بحیثیت سیاسی جماعت کبھی بھی وندے ماترم کے تمام چھ بند گانے کو قبول نہیں کیا اور آئندہ بھی نہیں کرے گی، تاہم سرکاری حیثیت میں حکومت کو قانونی اور آئینی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’ہم نے بحیثیت جماعت وندے ماترم کو کبھی قبول نہیں کیا۔ آئندہ بھی اسے قبول نہیں کریں گے۔ لیکن ہمیں اپنی قانونی اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی‘‘۔
مکمل چھ بند گائے جانے کے دوران کھڑے ہونے پر کانگریس کی تنقید کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کو خصوصاً ان سرکاری تقریبات میں قانون کی پابندی کرنا ہوگی جہاں آئینی عہدوں پر فائز شخصیات موجود ہوں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر کانگریس اس قانون میں تبدیلی چاہتی ہے تو اسے پارلیمنٹ میں اسے ختم کرنا ہوگا، کیونکہ موجودہ قانون نافذ ہے۔
عمر عبداللہ کے مطابق جس تقریب میں دو گورنرز، ایک لیفٹیننٹ گورنر اور ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس موجود ہوں وہاں قومی ترانے اور قومی گیت سے متعلق قانونی تقاضے لاگو ہوں گے۔انہوں نے کہا’’اس سال قانونی طور پر جہاں قومی گیت بجایا جائے گا، وہاں وندے ماترم کے مکمل بند لازمی ہوگئے ہیں۔ یہ صرف جموں و کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لیے ہے‘‘۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہی تقاضا کانگریس کی حکومت والی ریاستوں میں بھی سرکاری تقریبات کے دوران لاگو ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر قانون پر عمل نہیں کیا جاتا اور کوئی شخص مکمل وندے ماترم کے دوران کھڑا نہیں ہوتا تو اس کے خلاف قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ تنازع ’بلاوجہ‘ پیدا کیا گیا ہے اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں اگر کانگریس مرکز میں حکومت بناتی ہے تو وہ پارلیمنٹ میں اس قانون کو ختم کردے گی۔انہوں نے کہا،’’اب کانگریس حکومت بنائے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ کانگریس حکومت جلد از جلد آئے اور پارلیمنٹ میں اسے ختم کردے۔ انہیں ایسا کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔‘‘
۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)









