ایٹا نگر، 10ستمبر (یو این آئی) نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے بدھ کو کہا کہ قبائلی برادریاں نہ صرف ہندوستان کے ماضی کی محافظ ہیں بلکہ ملک کے مستقبل کو تشکیل دینے میں بھی اہم شراکت دار ہیں۔
مسٹر کرشنن نے آج ایٹانگر میں اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ جمہوریت کی اعلیٰ ترین روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔
اسمبلی کے احاطے میں آمد پر نائب صدر جمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے مہاتما گاندھی اور باباصاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسموں پر گلہائے عقیدت نذر کرکے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہیں رسمی گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ بعد ازاں نائب صدر نے اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے میوزیم کا دورہ کیا، جہاں ریاستی قانون ساز اسمبلی کے قیام سے لے کر اب تک اس کے ارتقا، ترقی اور قانون سازی کے سفر کو مختلف پہلوؤں کے ذریعے اجاگر کیا گیا ہے۔
میوزیم میں ریاستی قانون ساز ادارے کی تاریخ اور اس کی اہم پیش رفت کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ اروناچل پردیش کو بے پناہ اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے، یہ ریاست مالا مال ثقافتی ورثے اور وافر قدرتی وسائل کی حامل ہے اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں اہم کردار ادا کرتی ہے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کے باقی حصوں کی سلامتی کا انحصار اروناچل پردیش کے عوام کی جانب سے ملکی سرحدوں کے تحفظ پر بھی ہے۔
نائب صدر نے تنوع میں ہندوستان کی وحدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک ایک آئین، ’راشٹر پرتھم‘کے ایک وژن اور ’وکست بھارت 2047‘ کے ایک ہدف سے متحد ہے۔ قومی شاعر سبرامنیا بھارتی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کی مختلف زبانوں اور روایات کے پس پشت کارفرما فکری اتحاد کو اجاگر کیا۔ ہندوستان کی شاندار جمہوری وراثت کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر کرشنن نے ہندوستان کو ’جمہوریت کی ماں‘ قرار دیا اور قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ اس ورثے کے شایانِ شان اپنے فرائض انجام دیں۔ نائب صدر نے شمال مشرقی خطے کی ترقی پر بڑھتی ہوئی توجہ کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دورِ حکومت میں شمال مشرقی خطے کی ترقی سے متعلق وزارت (ڈونر) کے قیام اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ کے تحت اس خطے پر خصوصی توجہ کا ذکر کیا۔ انہوں نے اروناچل پردیش کی ترقی کی کامیابیوں پر ریاستی حکومت اور عوام کو مبارک باد دی، جن میں ملک میں کیوی پھل کے سب سے بڑے پیداوار کنندہ کے طور پر ریاست کا ابھرنا، سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع، ایک لاکھ سے زائد مٹی کی صحت کے کارڈ جاری کرنا، اور تعلیم و فی کس آمدنی کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت شامل ہے۔ ریاستی قانون ساز اسمبلی کی گولڈن جوبلی مکمل ہونے پر مبارک باد دیتے ہوئے مسٹر کرشنن نے قانون ساز سیکریٹریٹ کو پلاسٹک سے پاک بنانے اور اسمبلی لائبریری و میوزیم کے قیام جیسے اقدامات کو سراہا۔ نائب صدر نے قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی کامیابی کے مقابلے میں عوامی خدمت کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات ووٹوں کے ذریعے جیتے جا سکتے ہیں، لیکن عوام کا احترام اور اعتماد صرف مخلصانہ اور مسلسل خدمت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اراکینِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ عوامی پالیسی اور اپنے حلقوں سے متعلق مسائل اٹھانے کے لیے سوالیہ وقت اور زیرو آور کا مؤثر استعمال کریں۔ راجیہ سبھا کے پریزائیڈنگ آفیسر کی حیثیت سے مسٹر کرشنن نے قانون سازی کے عمل میں مکالمے، بحث اور تبادلۂ خیال کی اہمیت پر زور دیا۔ اپنے اس پیغام کو دہراتے ہوئے کہ ’’بحث، تبادلۂ خیال یا حتیٰ کہ تعطل بھی ہمیشہ کسی فیصلے تک پہنچنا چاہیے‘‘، انہوں نے کہا کہ صحت مند بحث جمہوریت کو مضبوط کرتی ہے، جبکہ تعمیری تعاون ریاست اور ملک کی ترقی کو آگے بڑھاتا ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ وکست بھارت، وکست اروناچل پردیش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترقی ہمہ گیر اور جامع ہونی چاہیے اور کسی بھی قبائلی یا محروم طبقے کو پیچھے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے معاشی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں اور قدرتی وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اروناچل پردیش میں آبی بجلی کے وسیع امکانات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مناسب استعمال ریاست کے لیے زیادہ آمدنی پیدا کرنے اور اس کی ترقی کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر اروناچل پردیش کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) کیولیہ تری وکرم پرنائک، اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر تیسام پونگٹے، وزیر اعلیٰ پیما کھانڈو، نائب وزیر اعلیٰ چاؤنا مین، قانون ساز اسمبلی کے اراکین، ریاستی حکومت اور قانون ساز سیکریٹریٹ کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔یو این آئی۔ این یو۔







