تہران، 7 ستمبر (یو این آئی) آبنائے ہرمز کے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کا مرکز بننے کے ساتھ ہی ایران آنے والے دنوں میں اس اہم بحری گزرگاہ سے آگے ایک نیا "محدود زون” قائم کرنے پر غور کر رہا ہے۔
سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (ایس این ایس سی) کے سیکریٹری نے کہا ہے کہ اس علاقے میں تہران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کے بغیر داخل ہونے والے بحری جہازوں کو ایرانی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں میجر جنرل محسن رضائی نے کہا کہ نیا زون "امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی لائن سے شروع ہو کر خلیج فارس کے بعض حصوں تک پھیلے گا” اور اس میں وہ سمندری راستہ بھی شامل ہوگا جو تیل کی لوڈنگ کی بندرگاہوں کی جانب جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے دونوں اطراف سے آنے والے جو بحری جہاز مقررہ علاقے میں ایران کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کے بغیر داخل ہوں گے، انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کے نتیجے میں ان کی انشورنس اور مستقبل میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رضائی نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز "مکمل طور پر بند اور مسلح افواج کے کنٹرول میں ہے” اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ یہ اہم بحری گزرگاہ کھلی ہے۔ انہوں نے اسے "بڑا جھوٹ” قرار دیا۔ رضائی کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے سے قبل روزانہ 100 سے زائد بحری جہاز، 100 ملین ٹن سے زیادہ سامان لے کر اس راستے سے گزرتے تھے۔ ان کے بقول اب صرف سات سے آٹھ بحری جہاز ایران کے لیے ضروری اشیا لے کر اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔
رضائی نے کہا، "امریکی بڑی لاگت پر پانچ سے چھ بحری جہازوں کو خفیہ طور پر گزارنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان جہازوں کو عموماً نشانہ بنایا جاتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ان بحری جہازوں کو، جنہیں وہ اسمگلنگ کرنے والے جہاز قرار دیتا ہے، غرق کرنے کا فیصلہ نہیں کیا کیونکہ ان میں تیل موجود ہے اور ان کے ڈوبنے سے خطے میں ماحولیاتی نقصان ہو سکتا ہے۔
رضائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں ایک نئے راہداری نظام سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر آنے والے دنوں میں دستخط کیے جائیں گے، جس کے تحت داخلے اور اخراج کا مکمل انتظام ایران کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے دھمکیاں اور جارحیت ختم کرنے اور ایران کا اعتماد بحال کرنے تک تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی کوئی یقین دہانی نہیں کرائے گا۔
ایس این ایس سی کے سیکریٹری نے یہ بھی کہا کہ ایران نے 48 گھنٹے قبل امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے قریب نئی اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔انہوں نے کہا، "پہلی بار ہم نے ایک امریکی جنگی جہاز کے اوپر اپنی اینٹی شپ میزائل کا تجربہ کیا۔ اس خصوصی میزائل نے امریکیوں کے لیے جہنم برپا کر دیا اور وہ فرار ہو گئے۔”
رضائی نے کہا کہ امریکی سینٹرل کمانڈ بھی اس حملے کو چھپا نہیں سکی۔ انہوں نے اسے اس بات کی وارننگ قرار دیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کمزور ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف 10 روزہ جنگ کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم اردن میں ٹائٹن بیس اور اربیل کے مقامات سمیت امریکی معاونتی اڈوں اور فوجی ٹھکانوں پر ایران کے اچانک حملوں نے واشنگٹن کو پہلے ہی دن یہ منصوبہ ترک کرنے پر مجبور کر دیا۔
سکیورٹی عہدیدار نے مزید کہا کہ ایران سیرِک میں ایک شادی کی تقریب پر امریکی حملے کے جواب کا حق محفوظ رکھتا ہے، جسے انہوں نے امریکی حملہ قرار دیا۔ علاقائی مزاحمتی گروہوں سے متعلق پیش رفت پر رضائی نے کہا کہ لبنان کے بعض علاقوں میں اسرائیل کی عارضی پیش قدمی کے باوجود حزب اللہ کا پلڑا اب بھی بھاری ہے اور عوام میں بڑھتا ہوا غصہ اسرائیل کی کسی مستقل موجودگی کو روک دے گا۔
انہوں نے ایران کے اندر اشیائے ضروریہ کی قلت کی خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی فروخت جاری ہے، آمدنی ملک میں واپس آ رہی ہے اور بنیادی اشیا کے اسٹریٹجک ذخائر مستحکم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طویل عرصے سے جاری پالیسی ایران کو ایک ایسے منحصر ملک میں تبدیل کرنا رہی ہے جو اپنی صلاحیتوں سے محروم ہو، تاہم ایرانی قوم نے اپنی قیادت کے گرد اتحاد کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔
دریں اثنا، ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کے سلسلے میں اپنے ترک اور سعودی ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ رپورٹ کے مطابق عراقچی نے ہفتے کی شب ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود کے ساتھ دو طرفہ امور اور خطے کی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔
تینوں وزرائے خارجہ نے مغربی ایشیا میں استحکام کے فروغ اور آبنائے ہرمز میں عدم تحفظ کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سفارتی کوششوں پر بھی بات کی۔ ایران کے مطابق یہ عدم تحفظ امریکہ کی ”جارحانہ کارروائیوں“ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ یہ ٹیلی فونک رابطے ہفتے کے روز ایران اور امریکہ کے درمیان بحری محاذ آرائی کے سلسلے کے بعد ہوئے۔
ژنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ امریکی فورسز نے ایران کے تین خام تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جب ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے علاقائی پانیوں میں گشت کرنے والے امریکی بحریہ کے دو جنگی جہازوں کی جانب بیلسٹک میزائل داغے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا، ”ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے ایران کے متعدد بلااشتعال حملوں سے کامیابی کے ساتھ بچاؤ کیا۔ کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔“ بعد ازاں آئی آر جی سی کی بحریہ نے امریکی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی میں آبنائے ہرمز میں تین تیل بردار جہازوں اور دیگر مقامات پر امریکی مفادات سے وابستہ تین بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
آئی آر جی سی نے اتوار کی صبح اپنے سرکاری میڈیا ادارے سپاہ نیوز پر جاری ایک بیان میں کہا کہ اس کی ایرو اسپیس فورسز نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک ڈسٹرائر کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل داغے۔ آئی آر جی سی نے الزام عائد کیا کہ ان جہازوں نے ایرانی بحری جہازوں کو ہراساں کیا اور ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی میں حصہ لیا۔
آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ اس کی بحری افواج نے امریکی فوج کی ایک بغیر پائلٹ والی سطحی کشتی کو بھی نشانہ بنایا، جس نے آبنائے ہرمز کے ایک محفوظ علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی۔




