نئی دہلی، 26 اگست (یو این آئی) ٹاٹا گروپ کی ہوائی سروس کمپنی ایئر انڈیا نے بھوٹان کے ساتھ فضائی رابطہ مضبوط کرنے کے لیے وہاں کی سرکاری ہوائی سروس کمپنی ڈروک ایئر کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔
ایئر انڈیا نے بدھ کو بتایا کہ اس شراکت داری کا مقصد ہندستان، بھوٹان اور آگے کی منزلوں کے درمیان بلارکاوٹ سفر کی سہولت کو بہتر بنانا اور نیٹ ورک کو مضبوط کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت مسافر ایئر انڈیا اور ڈروک ایئر کی پروازوں کو ملا کر ایک ہی ٹکٹ پر سفر کر سکیں گے۔ مسافروں کے سامان اور مسافروں کی منتقلی کا مربوط انتظام آخری منزل تک کیا جائے گا۔
یہ سہولت دہلی واقع اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر انڈیا کے مرکز کے ذریعے دستیاب ہوگی۔ ایئر انڈیا کے مسافر مختلف شہروں سے دہلی ہوتے ہوئے بھوٹان کے پارو تک آسانی سے سفر کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ بھوٹان کے اندر پارو سے بومتھنگ، گیلیفو اور یانفولا کے لیے بھی آسان رابطے دستیاب ہوں گے۔
وہیں، ڈروک ایئر کے مسافروں کو دہلی، گوہاٹی اور کولکاتا کے ذریعے ایئر انڈیا کے وسیع گھریلو نیٹ ورک تک براہ راست رسائی ملے گی۔ اس میں بنگلورو، ممبئی اور کوچی جیسے اہم شہر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مسافر پیرس چارلس ڈی گال، کولمبو، نیوارک، فرینکفرٹ، نیویارک، لندن (ہیتھرو)، میلبورن، سان فرانسسکو، سڈنی، ٹورنٹو پیئرسن اور وینکوور جیسی اہم بین الاقوامی منزلوں تک بھی آسانی سے پہنچ سکیں گے۔
ایئر انڈیا کے چیف کمرشل افسر نِپُن اگروال نے کہا، ’’ڈروک ایئر کے ساتھ ہماری شراکت داری سارک خطے میں فضائی رابطہ مضبوط کرنے کے ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔ ہم اس خطے کو اپنی توسیع شدہ گھریلو منڈی سمجھتے ہیں۔ بھوٹان اس خطے کا ایک اہم حصہ ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے مسافروں کے لیے بھوٹان تک آسان رسائی یقینی بنا پا رہے ہیں۔ ساتھ ہی، ہم ڈروک ایئر کے مسافروں کا ایئر انڈیا کے وسیع گھریلو اور عالمی نیٹ ورک میں استقبال کرنے کے لیے پُرجوش ہیں۔‘‘
ڈروک ایئر کے چیف ایگزیکٹو افسر تانڈی وانگچُک نے کہا، ’’یہ شراکت داری ڈروک ایئر کے لیے ایک اہم کامیابی ہے، کیونکہ ہم اپنی عالمی رابطہ کاری کو مسلسل مضبوط کرنے اور اپنے مسافروں کے سفر کے تجربے کو بہتر بنانے کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایئر انڈیا کے ساتھ اس انٹر لائن شراکت داری کے ذریعے ہمارے صارفین کو بلارکاوٹ سفر، اہم بین الاقوامی منڈیوں تک وسیع رسائی اور ہندستان اور اس سے آگے بہتر رابطے کا فائدہ ملے گا۔‘‘
اس شراکت داری سے سیاحت اور کاروباری سفر کو مزید فروغ ملنے کی امید ہے۔ اس کے ساتھ ہی مسافروں کو زیادہ رسائی، سہولت اور بہتر قیمت کا فائدہ ملے گا۔






