کابینہ میں توسیع ایسا وقت آنے پر ہو گی ‘کوئی کام متاثر نہیں ہو رہا‘ حکومت میں کوئی بحران نہیں ہے‘ہم رد و بدل کریں گے :وزیرا علیٰ
سری نگر، ۲۴ اگست
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے پیر کو بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ نرخوں میں اضافہ ایک ’مجبوری‘ تھی اور حکومت نے کبھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
جموں و کشمیر کے بجلی صارفین کو یکم ستمبر سے زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ جوائنٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے ای آر سی) نے بجلی کے نرخوں میں ۶ء۸۳ فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ نرخوں میں اضافے کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں نے احتجاج شروع کر دیا ہے۔
سری نگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا، ’’ہم نے کب کہا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہیں ہوگا؟ ہم نے کہا تھا کہ ہم سب سے غریب اور ضرورت مند لوگوں کو ۲۰۰ یونٹ بجلی فراہم کریں گے۔ ہم انہیں ۲۰۰ یونٹ بجلی مفت دیں گے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ حکومت مفت بجلی کی فراہمی کے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لیے شمسی توانائی کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور زور دیا کہ بجلی کے نرخوں میں حالیہ نظرثانی کا اس اسکیم پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’بجلی کی قیمت اور اس اسکیم کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم ان لوگوں کو مفت بجلی فراہم کرتے رہیں گے جنہیں اس کی ضرورت ہے۔‘‘
اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے موجودہ نرخوں میں اضافے پر تنقید کرنے والوں کو یاد دلایا کہ سابقہ حکومتوں نے بھی بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’ان کے دور حکومت میں بجلی کے نرخوں میں ۱۴ فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا تھا۔ اس وقت انہیں یہ ناانصافی محسوس نہیں ہوئی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ چار سال قبل بھی بجلی کے نرخوں میں ۱۵ فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس وقت بی جے پی کے لوگ خاموش رہے تھے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چار سال بعد بجلی کے نرخوں میں صرف چھ فیصد اضافہ کیا ہے، حالانکہ اس عرصے کے دوران مہنگائی اور ضروری اشیا کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے بجلی کے نرخ میں صرف چھ فیصد اضافہ کیا ہے، وہ بھی چار سال بعد۔ اس دوران دوسری کتنی چیزوں کی قیمتیں بڑھی ہیں؟ مہنگائی میں کتنا اضافہ ہوا؟ تیل کی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں؟ بازار سے خریدی جانے والی اشیا کی قیمتیں کہاں پہنچ گئیں؟‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے بجلی کے نرخوں میں صرف اتنا ہی اضافہ کیا ہے جتنا اسے ضروری سمجھا گیا۔عمر عبداللہ نے کہا، ’’دیکھیے، ہم بجلی کے نرخ بڑھا کر جشن نہیں منا رہے ہیں۔ یہ ہماری مجبوری تھی۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو امید ہے کہ بجلی کے شعبے میں بہتری اور بجلی کے نقصانات میں کمی سے مستقبل میں ایسے اقدامات کی ضرورت سے بچنے میں مدد ملے گی۔
عمرعبداللہ نے کہا، ’’اور جیسے جیسے بجلی کے شعبے میں ہمارے نقصانات کم ہوں گے، ہمیں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔‘‘
جموں و کشمیر میں کابینہ میں ردوبدل سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وقت آنے پر ایسا کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، ’’کوئی کام متاثر نہیں ہو رہا۔ حکومت میں کوئی بحران نہیں ہے۔جب ہمیں ردوبدل کرنا ہوگا، ہم کریں گے۔ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ یہ ۱۵ ؍اگست کے بعد ہوگا۔ اس فیصلے کو مجھ پر چھوڑ دیں‘‘۔
کشمیری پنڈت ملازمین کو مبینہ طور پر موصول ہونے والی دھمکیوں سے متعلق سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے اس معاملے کو تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے پولیس، سلامتی اور خفیہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس کی مکمل تحقیقات کریں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’ایسی دھمکیوں کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ اپنے ملازمین کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا پولیس کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔‘‘
ماضی میں پیش آنے والے ان واقعات کا حوالہ ‘جن میں پنڈت ملازمین کو نشانہ بنایا گیا تھا،دیتے ہوئے، عمر عبداللہ نے کہا کہ حکام کو تازہ دھمکیوں کے ماخذ کا پتہ لگانا چاہیے اور ملازمین کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ امن و قانون اور سلامتی کا معاملہ لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، تاہم متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشرق خبر)








