رام بن/۲۴ اگست
موں و کشمیر کے ضلع رام بن میں ایک گاؤں میں زمین دھنسنے اور رہائشی مکانات میں دراڑیں پڑنے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ۱۰ ؍افراد پر مشتمل تین خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے پیر کو یہ اطلاع دی۔
حکام کے مطابق تحصیل راج گڑھ کے علاقے کلٹھی چکا کنڈی میں چناب دریا کے کنارے زمین دھنسنے کے واقعے نے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔ حالیہ شدید بارشوں کے بعد ضلع کے کئی علاقوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر مقامی باشندوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
انتظامیہ، محکمہ مال اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر متاثرہ علاقے میں پہنچیں اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
تحصیلدار راج گڑھ میجر سنگھ نے بتایا کہ بھگت رام کی ملکیت ایک غیر رہائشی ڈھانچہ بہہ گیا، جبکہ گزشتہ دو روز کے دوران زمین دھنسنے کے باعث چاٹ رام، چمن لال اور بھوشن لال کے رہائشی مکانات میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔
سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کے ہمراہ متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا۔ انہیں عارضی رہائش کے لیے خیمے بھی فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نائب تحصیلدار اور دیگر حکام گاؤں میں موجود ہیں اور صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔تاہم، مقامی لوگوں نے کئی دیگر مکانات میں بھی دراڑیں پڑنے اور نقصان کی اطلاع دی ہے، جن میں دیو راج، ہری رام، سنتوش سنگھ، فلال سنگھ اور شش رام کے مکانات شامل ہیں۔
بی جے پی کے رام بن ضلع صدر نیلم کمار لانگے نے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔انہوں نے نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت کے کسی وزیر یا رکن اسمبلی کی موقع پر عدم موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور الزام لگایا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کسی وزیر یا رکن اسمبلی نے متاثرہ علاقے کا دورہ نہیں کیا۔
مقامی باشندوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شدید بارشوں کے بعد بگلیہار پن بجلی منصوبے سے حالیہ دنوں میں پانی چھوڑے جانے کے باعث زمین کے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہو سکتا ہے۔تاہم، حکام نے کہا کہ زمین دھنسنے اور مکانات میں دراڑیں پڑنے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔
ادھر، ڈوڈہ ضلع میں پیر کی صبح پل ڈوڈہ کے قریب چناب دریا میں تیز دھارے کی زد میں آکر بہہ جانے والے ایک شخص کو، جو ریت نکالنے والی کشتی کے ساتھ دریا میں پھنس گیا تھا، ایس ڈی آر ایف نے بچا لیا۔
حکام کے مطابق بچایا گیا شخص غیر مقامی مزدور ہے اور ریت نکالنے والی مشین کا آپریٹر تھا۔ اسے علاقے میں ریت نکالنے کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی ایک نجی کمپنی نے ملازم رکھا تھا۔حکام نے بتایا کہ مشینری کو دریا سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
۔۔۔۔
(ایجنسیاں )









